قطرکا دوحہ میں حماس کے دفتر کے مستقبل اور ثالثی جاری رکھنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطین اور فلسطینی مزاحمتی تحریک کی برادر عرب ریاست قطر کی حکومت نے اس امر پر غور شروع کر دیا ہے کہ قطر ایک ثالث ملک کے طور پر اپنے کردار کا از سر نو جائزہ لے اور اس کی روشنی میں ضروری ہو تو قطر دوحہ میں موجود حماس کی سیاسی قیادت کا دفتر بند کر دے۔

قطر کی حکومت کی طرف سے یہ اشارے پچھلے ماہ آنا شروع ہو گئے تھے۔ تاہم باضابطہ طور پر قطری حکومت یا حماس دونوں نے اس بارے میں براہ راست بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ البتہ دونوں کے ذرائع سے اور بالواسطہ طور پر اس طرح کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

خیال رہے عرب دنیا کے ایک اہم ملک ہونے کے ناطے قطر نے فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کو دوحہ میں سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت اس لیے دے رکھی تھی کہ حماس کو سیاسی بات چیت کی طرف مائل رکھا جائے اور مسئلے کا سیاسی حل نکالنے میں سہولت کاری کی جائے۔

حماس کے ایک رہنما نے پچھلے دنوں یہ بات بھی کہی کہ حماس کا دوحہ میں سیاسی دفتر امریکی اجازت کی بنیاد پر کھلا تھا۔ اسی طرح قطر افغانستان کے طالبان کو بھی اپنے ہاں سیاسی دفتر کھولنے کی سہولت دے چکا ہے۔

تاہم اب کچھ عرصے سے امریکی ارکان کانگریس نے صدر جوبائیڈن کو اس بارے میں کہنا شروع کر رکھا تھا کہ اگر قطر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس پر اثر انداز نہیں ہوتا تو قطر پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ حماس کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرے۔ بصورت دیگر امریکہ قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کا نئے سرے سے جائزہ لے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی پچھلے دنوں قطر سے اسی طرح کا مطالبہ کیا تھا اور عملاً قطر پر ایک دباؤ کی سی کیفیت بڑھ رہی تھی۔

قطری حکومت کے اس موضوع سے متعلق امور کو جاننے والے ایک ذمہ دار نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک غیر رسمی تصدیق کردی ہے کہ خلیجی عرب ریاست قطر اس امر پر غور کر رہی ہے 'حماس کو دوحہ میں اپنا سیاسی دفتر چلانے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔'

یہ سارا غور اور جائزہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کی قطری کوششوں کے کامیاب یا ناکام ہونے کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ قطری ذمہ دار نے کہا 'اگر حماس اور اسرائیل کے درمیان قطر ثالثی نہیں کر رہا تو قطر اپنے ہاں حماس کے سیاسی دفتر کا کوئی فائدہ نہیں دیکھے گا۔ اس لیے از سر نو جائزہ لینا ضروری ہو گیا ہے۔'

مگر اس ذمہ دار نے اس بارے میں اپنی معلومات نہ ہونے کا کہا کہ دفتر بند کرنے کا فیصلہ ہونے کی صورت میں حماس کو قطر چھوڑنے کے لیے کب اور کیسے کہا جائے گا۔

واضح رہے امریکہ کے ایک بڑے اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے جمعہ کے روز کی اپنی اشاعت میں یہ لکھا تھا کہ 'اگر فلسطینی گروپ حماس اسرائیل کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا تو اسے قطر سے نکال دیا جائے۔'

دوسری جانب حماس کے ایک ذمہ دار نے 'روئٹرز' کو بتایا ہے کہ حماس کے قائدین مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ چکے ہیں۔ جہاں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کے شروع ہونے کا امکان ہے۔

قطر میں حماس کا یہ دفتر 2012 سے امریکہ اور قطر کے درمیان ایک معاہدے کی صورت میں وجود میں آیا تھا۔ جہاں حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ طویل عرصے سے مقیم ہیں۔ البتہ اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے دنوں میں اسماعیل ھنیہ نے ترکی اور بعض دیگر ملکوں کے بھی کئی اہم دورے کیے ہیں۔

قطر جسے امریکہ اپنا میجر ‘Non Nato’ اتحادی قرار دیتا ہے۔ ان دنوں امریکہ اور اسرائیل کے بعض حلقوں میں حماس کے ساتھ قربت کی وجہ سے کافی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ نتیجہ اب ان خبروں کی صورت میں آنے لگا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں