نیتن یاہو کے بیانات کا مقصد مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانا ہے: حماس رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے سلسلے میں ثالثی کرانے والے ملکوں سے تعاون کر کے کسی معاہدے تک پہنچنے کو تیار فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے ایک سینیئر رہنما حسام بدران نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے رفح پر اسرائیلی حملے کے بار بار اصرار اور دھمکیوں پر مبنی بیانات کو قاہرہ میں مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

حسام بدران نے اس بارے میں جمعہ کے روز بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے امکان کو کمزور کردیتے ہیں۔

انہوں نے 'اے ایف پی ' کو بتایا کہ حماس نئی تجاویز جو امریکہ ، مصر اور قطر کی طرف سے موصول ہوئی ہیں کا اپنے اندرونی فورم پر جائزہ لے رہی ہے۔ نیز اپنے اتحادی مزاحمتی گروپوں کے ساتھ بھی مشاورت کے مرحلے میں ہے تاکہ ان کا بھی اس بارے میں نکتہ نظر سامنے ہو اور قاہرہ میں مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ہوری طرح تیاری موجود ہو۔

لیکن حماس رہنما نے نیتن یاہو کے بارے میں مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا ' وہ بار بار ایسے بیانات دے رہے ہیں جو رفح پر اسرائیلی فوج کے ممکنہ حملے کی دھمکیوں کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ ان کے یہ بیانات ان تمام کوششوں اور ماحول کو نقصان پہنچاتے ہی جو جنگ بندی مذاکرات کے سلسلے میں چل رہے ہوتے ہیں۔'

حسام بدران نے کہا نیتن یاہو مسلسل مذاکراتی عمل میں ایک رکاوٹ کار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے پچھلے مذاکراتی ادوار میں بھی یہی کیا تھا اور اب کی بار بھی مذاکراتی عمل میں رکاوٹ ہی ڈال رہے ہیں۔ یاہو اس میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے کہ ثالثی کرنے والے ملک اور جنگی فریق کسی نتیجے پر پہنچیں اور مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔

واضح رہے ثالثی کے حوالے سے کردار ادا کرنے والے ملکوں نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے کہ چالیس دنوں کے لیے جنگ بندی کی جائے اور اس دوران اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کی تبادلے میں رہائی ممکن بنائی جائے۔ امکان ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینی قیدیوں میں سے بڑی تعداد میں قیدیوں کو رہائی مل سکے گی۔

تاہم ابھی تک بالواسطہ انداز سے ہونےوالے مذاکرات کافی حد تک غیر یقیقنی کا شکار ہیں۔ کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں کتنے اسرائیلی یرغمالی رہا ہوں گے اور جنگ بندی کتنے روز تک چل سکے گی۔

حماس رہنما حسام بدران نے کہا ہمارا موقف آج بھی وہی ہے جو شروع سے دے رہے ہیں کہ جنگ بندی عارضی نہیں مستقل ہونی چاہیے۔ جبکہ اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا جامع طور پر ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں