اسرائیلی وزیر: امریکہ ہمارا دوست کہلانے کا مستحق نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جوبائیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان غزہ جنگ کے حوالے سے اختلافات اب کوئی راز کی بات نہیں۔ انہی اختلافات کو ایک اسرائیلی خاتون وزیر برائے آباد کاری اورٹ سٹروک کے الفاظ میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے امریکی رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے اتوار کو ایک ریڈیو انٹرویو میں مزید کہا کہ وہ واشنگٹن کے رویے پر بہت فکر مند ہیں۔امریکہ اسرائیل کے بجائے جنگ روکنے کے لیے زور دے رہا ہے۔ یہ بات صاف اور واضح طور پر کہتی ہوں کہ امریکہ دوستی کا حق ادا نہیں کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ریاست اسرائیل امریکی پرچم پر کوئی دوسرا ستارہ نہیں ہے۔ اسرائیل اپنا دفاع کر سکتا ہے اور اسے کرنا چاہیے"۔

شو کی میزبان نے پوچھا کہ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا دوست نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ 'دوست' کے درجے کے لیے مطلوبہ کم سے کم کام معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔ سچ یہ ہے کہ وہ اسرائیل کی ریاست کا دوست کہلانے کا مستحق نہیں ہے"۔

تعلقات میں تناؤ

حالیہ عرصے کے دوران بہت سے معاملات نے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کشیدہ کیے ہیں، جن میں نیتن یاہو کا رفح شہر پر حملہ کرنے پر اصرار ایک اہم وجہ ہے۔اس میں ہزاروں بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں۔امریکہ رفح پر حملے کی مخالفت کے ساتھ ساتھ غزہ میں امداد کی فراہمی میں اضافے پر بھی زور دے رہا ہے۔

فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے بائیڈن کو انتخابی طور پر بھی متاثر کیا کیونکہ تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں نے نوجوان ڈیموکریٹس میں ان کی مقبولیت میں کمی ظاہر کی ہے کیونکہ وہ جنگ کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں