ایران اور سعودی عرب کا غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے غزہ کی تازہ ترین صورت حال پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے سعودی ہم منصب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گیمبیا میں منعقدہ اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔

العربیہ اور الحدیث چینلز کے نامہ نگارنے بتایا کہ دونوں وزراء نے ملاقات کے دوران غزہ کی صورتحال اور خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں وزراء نے "دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں انہیں مضبوط اور ترقی دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کی۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں ہونے والی پیش رفت تفصیلی بات چیت کی۔

کل ہفتے کو سربراہی اجلاس سے پہلے گفتگو کے دوران سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے غزہ کی پٹی میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے محفوظ انسانی اور امدادی راہداریوں کی فراہمی پر زور دیا۔

درایں اثناء ایرانی وزیر خارجہ حسین عبداللہیان نے اپنے مصری ہم منصب سامح شکری سے کل ہفتے کو گیمبیا میں ملاقات کی۔ دونوں وزراء نے فلسطینی علاقے رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن کو دونوں ممالک کی طرف سے مکمل طور پر مسترد کردیا۔

گیمبیا کے دارالحکومت بنجول میں اسلامی تعاون تنظیم کی کانفرنس کے پندرہویں اجلاس میں ہفتے کے روز اسلامی ممالک کے درجنوں رہ نما اور وزراء شریک ہوئے۔ یہ اجلاس آج اتوار کو اختتام پذیرہوگا۔

"او آئی سی" کے ٓ سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے فتتاحی خطاب میں کہا کہ "یہ اسلامی سربراہی اجلاس مسئلہ فلسطین میں رونما ہونے والی خطرناک اور بے مثال پیش رفت، خاص طور پر جرائم کے تسلسل اور اسرائیل کی وحشیانہ فوجی جارحیت کے تناظر میں منعقد ہوا ہے"۔

انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ "فلسطینی کاز کے حق میں کوششیں اور یکجہتی کا سلسلہ تیز کریں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں