فلسطین اسرائیل تنازع

حماس مکمل جنگ بندی چاہتا ہے ، جنگ بندی معاہدے میں یہی چیز رکاوٹ ہے: اسرائیلی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ جاری مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔ ایک اعلیٰ اسرائیلی ذمہ دار نے ہفتے کے روز اس بارے میں کہا ' حماس کا یہ مطالبہ کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی کی جائے۔ اس مطالبے کی وجہ سے مذاکرات کا کسی معاہدے اور عارضی جنگ بندی تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔'

اس عہدے دار نے مزید کہا ' ابھی تک حماس غزہ میں جنگ کے مکمل اور حقیقی خاتمے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔ اس لیے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کو ختم کر رہا ہے۔ ' یہ اسرائیل ذمہ دار بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' سے بات چیت کر رہا تھا۔ تاہم اس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

اس ذمہ دار نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا کہ اسرائیل نے یر غمالیوں کی رہائی کی شرط پر جنگ بندی معاہدے سے اتفاق کر لیا ہے۔ تام اسرائیلی عہدے دار نے یہ کہا کہ اسرائیل نے ثالثی کرنے والے ممالک کو تجاویز ضرور دی ہیں کہ وہ حماس کو کچھ ضمانتیں دے سکتے ہیں کہ جنگ ختم کر دی جائے گی مگر یہ نہیں بتایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کب جنگ ختم کرے گا۔'

اسرائیلی ذمہ دار کا یہ تبصرہ ہفتے کے روز اس وقت سامنے آیا جب حماس کے مذاکرات کار واپس قاہرہ پہنچ گئے تاکہ مذاکراتی عمل کا حصہ بن سکیں۔ نیز سات ماہ سے جاری جنگ روکنے کے لیے بات چیت کا پھر سے آغاز ہو سکے اور اسرائیل سمیت ثالثوں کی طرف سے دی جانے والی نئی تجاویزات پر اپنا جواب داخل کر سکیں۔

دوسری جانب حماس کے ایک سینئیر رہنما نے ہفتے کی رات اصرار کر کے کہا ہے کہ ' حماس ان حالات میں کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کرے گا جن میں مستقل اور مکمل جنگ بندی موجود نہیں ہو گی۔'

حماس رہنما نے بھی اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربات کرتے ہوئے ' اسرائیل کی اس سوچ کی مذمت کی کہ وہ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس کے نتیجے میں صرف اس کے یرغمالی رہا ہو سکیں۔ اس کے بعد پھر اپنی جنگ غزہ پر مسلط رکھے رہے۔ لیکن حماس ایسے کسی معاہدے سے اتفاق نہیں کرے گا جس میں مکمل جنگ بندی نہ ممکن بنائی گئی ہو۔'

حماس ذمہ دار نے دو ٹوک انداز میں کہا ' مکمل جنگ بندی اور پورے غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔ '

اس دوران ہفتے کے روز مذاکرات کے آغاز سے قبل ثالث ملک حماس کی طرف سے چالیس روز کے لیے جنگ بندی کی نئی تجویز پر رد عمل کے منتظر تھے۔ جس میں اسرائیلی یرغمالیوں اور اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن بنائے جانے پر فوکس تھا۔

یاد رہے کئی روز کی شٹل ڈپلومیسی کے باوجود ابھی تک ثالث ملک ماہ نومبر میں وقفے وقفے سے ایک ہفتے کے لیے جنگی وقفے کے علاوہ کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ نومبر 2023 کے آخری ہفتے میں ایک سو پانچ اسرائیلی یرغمالی رہا ہوئے تھے جبکہ ان کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینیوں کو بھی رہائی ملی تھی۔

ادھر ہفتے کی رات تل ابیب میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ مظاہرین اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرایا جائے اور حماس کے ساتھ معاہدہ کیا جائے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 128 یرغمالی غزہ میں قید ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کا یہ کہنا ہے کہ ان میں 35 ہلاک ہو چکے ہیں۔ تل ابیب کی سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین اسرائیلی پرچم اور بینر اٹھائے ہوئے تھے جن میں درج تھا ' انہیں گھروں کو واپس لاؤ۔'

ہفتے کی ہی رات 9 بجے سے ذرا پہلے حماس کے ایک سینئیر ذریعے نے ' اے ایف پی ' کو بتایا کہ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے اب ہفتے کے روز شروع ہونے والی بات چیت اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ تاہم اس ذریعے نے کہا کل ایک نیا دور شروع ہو جائے گا اور نئے سرے مذاکرات ہوں گے۔'

اس سے قبل اسرائیل نے ہفتے کے روز ہی اپنا وفد ان مذاکرات میں بھیجنے سے اس وقت تک انکار کر دیا تھا جب تک ان کے وفد کو کسی مثبت پیش رفت کے بارے میں یقین دہانی نہ کرائی جائے۔ کہ خصوصاً اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک مثبت ' فریم ورک' اور اس سلسلے میں ایک ممکنہ معاہد کے خدو خال ضروری ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں