قیدیوں کے بدلے غزہ جنگ ختم کرنے کی حماس کی شرط قبول نہیں:نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے قاہرہ کی میزبانی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ بات چیت کے دوران حماس اور اسرائیل دونوں نے ایک دوسرے پر مذاکرات میں رخنہ ڈالنے کا الزام عاید کیا ہے۔
اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ انہیں غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں مستقل جنگ بندی کی حماس کی تجویز قبول نہیں۔

اتوار کے روز ایک حکومتی اجلاس کے دوران خطاب تقریر میں نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک حماس کے جنگ کے خاتمے اور غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے مطالبات کو قبول نہیں کر سکتا۔ ایسے مطالبات کو تسلیم کرنے کا مطلب تحریک کی اقتدار میں بقا پر سمجھوتہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "حماس کی شرائط کو قبول کرنے کا مطلب ایران کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہے"

حماس کے سامنے جھکنا

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کا ملک غزہ کی سابقہ صورتحال پر واپس جانے کے لیے تیار نہیں۔ حماس بریگیڈز کو اس کےٹھکانوں سے نکالنا، دوبارہ فلسطینی اتھارٹی کا غزہ پر کنٹرول قائم کرنا اور غزہ میں فوجی ڈھانچے کی تعمیر ہماری ترجیحات ہیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ "اس طرح کے مطالبات کی تعمیل ایک بار پھر غزہ کےجنوب میں اور پورے ملک میں آباد بستیوں میں اسرائیلیوں کو دھمکیاں دینے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حماس کے مطالبات پر اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے دوسرے حملے کے لیے دوبارہ حماس کو وقت دی جائے۔

تاہم انہوں نے ساتھ ہی اشارہ دیا کہ اسرائیل قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں لڑائی کو عارضی طور پر روکنے کے لیے تیار ہے۔

حماس اپنے موقف پر قائم

دوسری جانب حماس نے اپنے سابقہ مطالبات پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ جنگ کا مکمل خاتمہ اس کے اہم مطالبات ہیں۔

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ تحریک "ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کی خواہشمند ہے جو غزہ سے اسرائیل کے انخلاء کی ضمانت دے اور قیدیوں کے تبادلے کا ایک ٹھوس معاہدہ حاصل کرے"۔ اس میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں کے موقف میں لچک نہ ہونے کے باوجود مذاکرات کے حوالے سے افواہیں گردش کرتی رہتی ہیں۔

ایک سینئر مصری ذریعے نے اشارہ دیا کہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، جس میں پیش رفت کا اشارہ ہے۔

قاہرہ ٹوڈے چینل کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ جن شرائط پر اتفاق کیا گیا ہے ان میں غزہ کی پٹی کے جنوب سے شمال کی طرف بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی بھی شامل ہے۔

دریں اثنا باخبر اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ آنے والے گھنٹے فیصلہ کن ہوں گے۔

اندرونی دباؤ

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب نیتن یاہو بہت زیادہ اور متضاد اندرونی دباؤ کا شکار ہیں۔ جب کہ اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ تقریباً روزانہ مظاہروں کے ذریعے دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایک معاہدہ طے کریں جس کے تحت گذشتہ اکتوبر کی سات تاریخ سے محصور فلسطینی پٹی میں زیر حراست درجنوں اسرائیلیوں کی واپسی ہو سکے۔ دوسری اسرائیل کے انتہا پسند رفح پر حملہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور وہ حماس کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مصر، قطر اور امریکہ کی قیادت میں ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کی کوششیں پچھلے کئی مہینوں سے جاری ہیں تاہم حماس اور اسرائیل کے درمیان تا حال کسی معاہدے کے ٹھوس امکانات سامنے نہیں آئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں