نیتن یاھو کے دفتر کے باہر حماس کے ساتھ معاہدے کے مخالف مظاہرین کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے سامنے درجنوں افراد نے جنگ سے سوگوار خاندانوں سے وابستہ ایک فورم پر مشتمل لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ نہ کرے۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے متوقع معاہدے کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اسے قبول نہ کریں۔

تل ابیب میں ایک مظاہرے کا منظر
تل ابیب میں ایک مظاہرے کا منظر

تل ابیب میں معاہدے کے حامیوں کا مظاہرہ

دوسری جانب گذشتہ شام کو یرغمالیوں کے رشتہ داروں سمیت ہزاروں افراد نے تل ابیب میں مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو کی حکومت ایک ایسے معاہدے پر پہنچے جس سے ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

نیتن یاہو کی تصویر والے ایک بڑے بینر پر لکھا تھا: "آپ کسی بھی معاہدے کو کمزور کر رہے ہیں"۔

کل ہفتے کے روز قاہرہ میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنا ہے۔ دوسری جانب دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اسرائیل نے اپنا وفد قاہرہ نہیں بھیجا۔ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے زور دے کر کہا تھا کہ اسرائیل سے ایک وفد کو مصری دارالحکومت بھیجنا یرغمالیوں کے معاہدے کے فریم ورک کے حوالے سے "مثبت پیش رفت" دیکھنے کے لیے منحصر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں