غزہ جنگ :یورپ و امریکہ میں نوجوانوں کا رد عمل، اسرائیل کا ہولوکاسٹ دن منانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

اسرائیل نے سات اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کے سات ماہ مکمل ہونے پر پہلی بار فیصلہ کیا ہے کہ 'اسرائیلی ہولو کاسٹ ' کی یاد میں دن منائے گا۔ یہ فیصلہ اسرائیل کی حمایت میں عالمی سطح پر اضافے کی ضرورت کی حکمت عملی اور یہودیوں کی مظلومیت کے تاثر کو گہرا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ہولو کاسٹ کی یادیں تازہ کرنے کا یہ دن اتوار کی شام سے اسرائیل میں شروع کیا جائے گا۔ جبکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں رہنے والے یہودی بھی اس ہولو کاسٹ کی یاد منانے کے لیے اس کا اہتمام کریں گے۔

ہولوکاسٹ کی یاد منانے کا یہ فیصلہ یورپ میں نوجوان نسل کی غزہ جنگ کے بارے میں آنے والے رد عمل اور ہولوکاسٹ کے تصور سے پیچھے ہٹ جانے کے ماحول میں ضروری ہو گیا تھا کہ نئی نسل کو یہودیوں کا پچھلے صدی کا تعارف کرایا جائے کہ انہوں نے بڑی مظلومیت کی زندگی گزاری تھی۔ اس لیے انہیں غزہ جنگ کے تناظر میں نہ دیکھا اور سمجھا جائے۔

جوڈتھ تذمیر جو ہولوکاسٹ میں بچ جانے والی یہودی خاتون ہیں وہ 1964 میں اسرائیل منتقل ہو گئی تھیں۔ تاہم سات اکتوبر کے دن نے ان کے مطابق انہیں بہت کچھ یاد دلا دیا ہے۔ انہوں نے ایک طویل عرصے سے جس چیز کو چھوڑ رکھا تھا اب پھر وہی انہیں کرنا ہو گا۔ وہ اس مقصد کے لیے پولینڈ جائیں گی جہاں پر نازیوں کے ' کنسینٹریشن کیمپ' میں جائیں گی۔

تذمیر 55 ہولو کاسٹ سروائیورز سے بھی ملاقات کریں گی۔ دریں اثناء ان کی ان 10 ہزار لوگوں سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں جو دوسرے ملکوں سے سفر کر کے یہاں پہنچے ہیں۔ یہ واقعہ یاد دلائے گا کہ اشوٹذ سے برکیناؤ تک 10 لاکھ یہودیوں مارے گئے تھے۔ اشوٹذ سے برکیناؤ تک 2 میل کا فاصلہ بنتا ہے۔

ہولو کاسٹ سروائیورز بھی یہودی طلبا ، رہنماؤں اور سیاست دانوں کے ساتھ اس مارچ میں شریک ہوں گے۔ علاوہ ازیں حماس کی قید سے رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالی اپنے اہل خانہ اور ابھی تک حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کے ساتھ مارچ میں شامل ہوں گے۔

تذمیر نے کہا 'میں نہیں جانتی کہ لوگ میری بات سنیں گے یا سمجھنا چاہیں گے ۔ انہوں نے اس سے پہلے اشوٹذ کی دعوت کو مسترد کر دیا تھا لیکن اب انہوں نے وہاں جانے کا خود فیصلہ کیا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مغرب اور امریکہ کے تعلیمی اداروں میں کریٹیکل تھنکنگ کے حوالے سے دی جانے والی تعلیم میں نوجوان نسل نے امریکہ اور یورپ کے بہت سارے ٹیبوز کو بھی چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے اور وہ آج کی دنیا کو درپیش مسائل میں ان چیزوں کو ایک سبب کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔

تذمیر نے کہا 'ہم یہ اس لیے بتانا چاہتے ہیں کہ آج بھی لوگ یہود مخالف ہیں اور لوگ مذہب کی بنیاد پر آج بھی دوسرے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اس لیے میرا لوگوں کے پاس جانا ضروری ہو گیا ہے۔'

اہم بات ہے کہ اس وقت یورپ اور امریکہ میں بھی نئی نسل اس چیز کو ایک مذہبی کارڈ کے طور پر ہی دیکھنے لگی ہے۔ لہذا ضروری ہوگیا ہے کہ ہولوکاسٹ کے تصور کو نئے سرے سے اجاگر کیا جائے اور نئی نسل کو اس حوالے سے راضی کیا جائے کہ ہولوکاسٹ مذہبی کارڈ نہیں ہے۔

ہولوکاسٹ کا یہ دن اس دن کی مناسبت سے منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب وارسا گھیٹو میں مزاحمت کا آغاز ہوا تھا۔ اس لیے یہ موقع ہے کہ اس واقعے کی مناسبت سے ہولوکاسٹ میں بچ جانے والے یہودیوں کے بیانات سنے جائیں۔ یہ سال کے تکلیف دہ دنوں میں سے ایک دن ہے۔ اس روز دو منٹ کے لیے سائرن بجائے جائیں گے۔ جب ٹریفک رک جائے گی اور ساری توجہ ہولوکاسٹ سے منسوب کیے گئے مظلوموں کی طرف ہوجائے گی۔

اس سلسلے میں یادگاری تقریبات سارا دن جاری رہیں گی۔ ہولو کاسٹ کے مظلوموں کا بار بار تذکرہ کیا جائے گا۔ ان کے نام پکارے جائیں گے۔ نیز اسرائیل کے موجودہ یرغمالیوں کا ذکر ان کے ستھ کیا جائے گا جو اس وقت غزہ میں قید ہیں تاکہ ہولوکاسٹ اور یرغمالیوں کو ایک ہی معاملے کی دو کڑیاں ثابت کیا جاسکے۔ اس کھاتے میں یرغمالیوں کے لیے پیلی رنگ کی خالی کرسیاں تقریبات میں رکھی جائیں گی۔ یہ پیلے رنگ کی خالی کرسیاں یرغمالیوں کی یاد دلائیں گی۔

1948 میں تذمیر ساڑھے چار سال کی تھی۔ اسے یاد ہے کہ وہ نیلے رنگ کے کپڑے، کالے جوتے اور سفید جرابیں پہنی ہوئی تھی۔ وہ برلن کے ایک پلازہ میں تھی جب اسے بتایا گیا کہ جن کے ساتھ وہ یہاں آئی ہے وہ اس کے ماں باپ نہیں ہیں۔ بلکہ اس کی ماں وہ ہے جو اس سے آگے کھڑی ہے۔

ترمیز کی ماں نے اپنی یہودی شناخت کو چھپائے رکھا اور جرمن کی فوج می ملازمت کی۔ تاکہ وہ تذمیر کی جان بچانے میں کامیاب ہوجائے۔ تذمیر اپنی ماں سے 16 سال بعد اس وقت ملی جب وہ کالج میں پڑھتی تھی۔

ہولوکاسٹ میں بچ جانے والی اسرائیلی خاتون کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا اسرائیل کو 34 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے تازہ قتل جس میں دو تہائی خواتین اور بچے شامل ہیں کے حوالے سے دیکھ رہی ہے۔ ہزاروں فلسطینی بچے اپنے ماں باپ کی ہلاکت کے بعد پناہ گزین کیمپوں میں ذہنی طور پر مسائل کا شکار ہو رہے ہیں اور غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے اقوام متحدہ بتا رہا ہے کہ وہاں قحط کا ماحول ہے اور لوگوں کے بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے۔ اس لیے اسرائیل کو ہولوکاسٹ کا یادگاری دن بار بار منانے کی حکمت عملی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں