اسرائیل وزیر کا ایران کے خلاف انتقامی حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرن کے اصفہان ایئر بیس پر اسرائیل سے منسوب حملے کے تین ہفتے بعد اسرائیلی حکومت کی ایک خاتون وزیر نے واضح طور پر اس حملے میں اسرائیل کے ملوث ہونےکی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق شاہرات اور نقل و حمل کی وزیر اور بنجمن نیتن یاہو کی حکمران لیکود پارٹی کے رکن میری ریگیو نے ہفتے کی شام اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل نے ایران کے حملے کے جواب میں اصفہان میں حملہ کیا تھا۔

اسرائیلی فوج کی ایک ریٹائرڈ کرنل اور سابق ترجمان ریگیو نے ہفتے کی شام اسرائیل کے چینل 14 کے ساتھ اپنے انٹرویو میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ایران کےاندر "کامیاب" حملے کو "عظیم معجزہ" قرار دیا۔ اسرائیل کے خلاف ایرانی فوجی حملے کی اس رات پیش آیا۔

انہوں نے گذشتہ ماہ ایران کی طرف سے اسرائیل پرکیے گئےحملے کو ناکام بنانے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جوابی کارروائی نے ہماری دفاعی صلاحیت کا ثبوت پیش کیا ہے۔

اس نے یہ بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اگر کوئی میزائل گر جاتا تو خدا جانے کیا ہوتا، لیکن خدا کی مدد اور جدید ٹیکنالوجی اور (درست) فیصلوں کی بدولت ہم نے ایرانی میزائلوں کو روک دیا۔"

تہران کو جوابی پیغام

ریگیو نے مزید کہا "پھر ہم نے جواب دیا اور تہران کو پیغام موصول ہوا۔ ایرانیوں نے سمجھ لیا اسرائیل ایسا ملک نہیں ہے جو حملوں کو برداشت کرتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے 13 اپریل کی شام کو سینکڑوں ڈرونز، بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔
یہ حملہ یکم اپریل کو ایران کی طرف سے دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔ قونصل خانے پر حملے کے نتیجے میں دو اہم کمانڈروں سمیت پاسداران انقلاب کے سات ارکارن مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں