جنگی پھیلاؤ خطرناک ، رفح اسرائیلی فوج کے لیے پکنک پوائنٹ ثابت نہیں ہو گا: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیل کی طرف سے رفح پر حملے کی علامات میں تیزی آنے کے ساتھ ہی اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج یاد رکھے ، اس کے لیے رفح پکنک پوائنٹ ثابت نہیں ہو گا۔ خیال رہے امکانی حملے کی تیاری کی تازہ علامات سے پہلے بھی رفح پر حملے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ، سمیت تقریباً تمام اہم عہدے داروں کے انتباہ اور دھمکیاں مسلسل جاری تھے۔

پیر کے روز اس سلسلے میں اسرائیلی فوج نے رفح سے فلسطینی عوام کو جبری طور پر انخلا کرنے کے لیے کہنا شروع کر دیا یے۔ اسی کے رد عمل میں حماس نے بھی اسرائیل کو خبر دار کیا ہے کہ رفح پر زمینی حملے کے بعد اسرائیلی فوج کے لیے یہ پکنک پوائنٹ نہیں ہو گا بلکہ اسرائیلی فوج کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

حماس کی طرف سے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی حملے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ خیال رہے رفح غزہ کا انتہائی جنوب میں واقع شہر ہے جو مصری سرحد پر واقع ہے۔ اس شہر میں مصر اور غزہ کے درمیان آمدو رفت اور نقل و حمل کے لیے اہم ترین راہداری بھی ہے۔

رفح میں غزہ سے بے گھر ہو کر آنے والے لاکھوں فلسطینی بھی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جنہیں اسرائیلی فوج نے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کے لیے مجبور کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم حماس کے سینئیر رہنما فلسطینیوں کی رفح سے جبری بے دخلی کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے اثرات ہوں گے اور اسرائیل کو بھی بھگتنا پڑے گا اس ذمہ دار نے کہا جنگ کا پھیلاؤ بہت خطرناک ثابت ہو گا۔

حماس رہنما سمیع ابو زہری نے کہا ' امریکی انتظامیہ قابضے کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسے اس اسرائیلی کی دہشت گردی کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔ ابو زہری نے امریکہ کو اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں