جنگ بندی نہیں حماس اپنے رہنماؤں کے غزہ سے انخلا کیلئے مذاکرات کر رہی: فتح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ہفتہ اور اتوار کے دو دن سے قاھرہ میں مذاکرات جاری رہے تاہم اس حوالے سے اسرائیل اور حماس کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات انتہائی کم دکھائی دے رہے ہیں۔ جنگ بندی کی دم توڑتی امیدوں کے دوران تحریک فتح کے رہنما موفق مطر نے اپنے بیان میں حماس کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔

موفق مطر نے کہا کہ حماس جنگ کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ غزہ کی پٹی سے اپنے رہنماؤں کے انخلا کو محفوظ بنانے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ اتوار کی شام العربیہ کو دیے گئے بیانات میں موفق مطر نے مزید کہا کہ حماس کو صرف غزہ پر حکومت کرنے اور اپنے رہنماؤں کی سلامتی کے لیے اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ مذاکرات کے دوران حماس اپنے رہنماؤں محمد الضیف اور یحییٰ السنوار کی قسمت پر بات کر رہی ہے۔ موفق نے یہ الزام بھی لگایا کہ حماس غزہ میں فلسطینی عوام کے مصائب میں اضافہ کر رہی ہے۔

موفق مطر نے کہا کہ 7 اکتوبر کو جو کچھ ہوا وہ بیرون ملک حماس کی قیادت کے خلاف مسلح حماس کی بغاوت تھی۔ اس حملے سے بیرون ملک موجود حماس کے رہنماؤں کا غزہ میں موجود حماس پر کوئی کنٹرول باقی نہیں رہا۔ یحییٰ سنوار سات اکتوبر کے حملے کے ذریعے بیرون ملک موجود حماس کے رہنماؤں کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ موفق نے مزید کہا اسرائیل نے فلسطینیوں کی صفوں کو تقسیم کرنے کے لیے حماس کی مدد کی ہے۔ آخر میں موفق نے کہا کہ حماس نے 7 اکتوبر کو جو کچھ کیا اس سے فلسطینی کاز کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

قبل ازیں اتوار کو ہی حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے حماس کے پرانے مطالبات کی تجدید کرتے ہوئے نیتن یاہو کی زیر قیادت اسرائیلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حماس اب بھی ایک ایسے جامع اور مربوط معاہدے تک پہنچنے کی خواہاں ہے جو جارحیت کو ختم کردے، اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دے اور قیدیوں کے تبادلے کے سنجیدہ اقدام تک پہنچا دے۔

انہوں نے نیتن یاہو کو جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ثالثوں اور مختلف فریقوں کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا۔ اسماعیل ھنیہ نے کہا دنیا ایک انتہا پسند حکومت کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ یہ حکومت غزہ میں سیاسی مسائل اور جرائم کی ایک بڑی تعداد کی وجہ ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے جرائم پر پردہ ڈالنے والے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو تباہی پھیلانے والے کے ہتھیاروں کی فراہمی روکے۔

دوسری طرف نیتن یاہو نے ہٹ دھری جاری رکھی اور کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے حماس کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی درخواست کو قبول کرنا اسرائیل کے لیے ایک "خوفناک شکست" ہے۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ حماس کے مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالنا اسرائیل کے لیے ایک ہولناک شکست ہے ۔ یہ حماس، ایران اور برائی کے اس پورے محور کے لیے ایک بڑی فتح کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے تمام اہداف کے حصول تک جنگ جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں