سعودی عرب کے ریستوران میں زہر خورانی سے ایک ہلاک، 95 ہسپتال میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی مملکت کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی کہ ایک ریستوران میں زہر خورانی کی وبا پھیلنے کے نتیجے میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک شخص کی موت واقع ہو گئی ہے اور 95 دیگر افراد کو ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

وزارت نے کمپنی کا نام ظاہر نہیں کیا۔ البتہ مقامی میڈیا ذرائع نے گذشتہ ہفتے اطلاع دی تھی کہ مملکت کے دارالحکومت میں ایک مشہور برگر چین سے اس وباء کے منسلک ہونے کی تصدیق ہو گئی تھی۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ بیکٹیریم کلوسٹریڈیم بوٹولینم کی وجہ سے 69 سعودی اور چھے غیر سعودی شہری زہر خورانی کا شکار ہوئے تھے۔

کلوسٹریڈیم بوٹولینم نامی زہریلا مادہ جسم میں اعصاب پر حملہ کرتا ہے اور نقل و حرکت، بات کرنے اور خوراک نگلنے کے لئے استعمال ہونے والے عضلات کی کمزوری اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر یہ زہریلا مادہ سانس کو کنٹرول کرنے والے اعصاب پر حملہ کر دے تو مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔

وزارت کے مطابق کم از کم 43 افراد پہلے ہی صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ ہو چکے تھے جبکہ اس وقت 11 کا علاج جاری ہے۔

دریں اثناء اس وباء کے نتیجے میں بدستور 20 کیسز انتہائی نگہداشت کے شعبے میں ہیں۔

وزارت نے کہا، "ان تمام کیسز کا تعلق ایک ہی ذریعہ سے منسوب زہر خورانی کے پھیلنے سے تھا۔"

جمعہ کے روز محکمہ بلدیہ ریاض نے تصدیق کی کہ صحت کے حکام کی تحقیقات کے ابتدائی نتائج سے پتہ چلا کہ گذشتہ ہفتے زہر خورانی کے متعدد کیسز کی ذمہ دار ایک ہی کمپنی تھی۔

بلدیہ نے کہا، اس وباء کی وجہ سے ریستورانوں کے سلسلے پر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے اور ریاض اور الخرج میں اس کی تمام شاخیں اور فوڈ پروسیسنگ کی سہولیات بند رہیں گی۔

بلدیہ نے یہ نہیں بتایا کہ کمپنی کی شاخیں اور دیگر سہولیات کب تک بند رہیں گی لیکن انہوں نے کہا کہ ان کے پاس موجود کھانے کی تمام مصنوعات ضائع کر دی جائیں گی۔

نیز انہوں نے کہا، بلدیہ کے عہدیدار تمام عمارات، اوزاروں اور مشینری کی صفائی اور جراثیم کش عمل کی نگرانی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں