اسرائیلی فوج کو رفح کو نشانہ بنانے کے خطرات سے خبردار کرتے ہیں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے عالمی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے رفح پر محدود آپریشن کرنے کے لیے پیر کو شمالی رفح سے دسیوں ہزاروں فلسطینیوں کے جبری انخلا کا عمل شروع کردیا۔ اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ شمالی رفح سے ایک لاکھ فلسطینیوں کو نکال رہے ہیں۔ اسرائیل کے اس اقدام پر سعودی وزارت خارجہ نے صہیونی افواج کو رفح شہر کو نشانہ بنانے کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں پر حملہ کرنے اور اس کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کی منظم خونی مہم کے ایک حصے کے طور پر اسرائیلی کارروائی بڑے پیمانے پر تباہی لائے گی۔

وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی طرف سے اسرائیلی افواج کی جانب سے قتل عام کو روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی بغیر کسی روک ٹوک کے خلاف ورزیوں کو مسترد کردیا۔ وزارت نے کہا کہ اسرائیلی کارروائی انسانی بحران کو بڑھائے گی اور اس سے بین الاقوامی امن کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔

سعودی عرب نے عالمی برادری سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نہتے شہریوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔

رفح میں 12 لاکھ افراد مقیم

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق رفح میں لگ بھگ 12 لاکھ فلسطینی مقیم ہیں۔ ان میں سے اکثر سات ماہ سے جاری جنگ کے دوران غزہ کی پٹی کے دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کرکے یہاں پہنچے ہیں۔

امریکہ کی قیادت میں بہت سے مغربی ملکوں نے گزشتہ مہینوں کے دوران اسرائیل کو رفح پر کسی بھی حملے کے نتائج سے خبردار کیا اور کہا ہے کہ بے گھر افراد کو محفوظ بنانے کے قابل عمل منصوبے کے بغیر رفح پر زمینی آپریشن کرنا تباہ کن ثابت ہوگا۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مسلسل اصرار کرتے آرہے ہیں کہ حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو، اسرائیلی فورسز رفح میں آپریشن ضرور کریں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں