اسرائیلی فوج 2005ء کےبعد پہلی بارفلاڈیلفیا میں داخل،کیا یہ امن معاہدےکی خلاف ورزی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں مصرکی سرحد کے ساتھ سرحدی پٹی جسے "فلاڈیلفیا" یا صلاح الدین محور کہا جاتا ہے پر اسرائیلی فوج نے قبضہ کرلیا ہے۔ سنہ 2005ء میں اسرائیلی فوج یہاں سے نکل گئی تھی تاہم یہاں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے حوالے سے دونوں ممالک کے دورمیان 1979ء میں امن معاہدے میں طے کیا گیا تھا۔

محور فلسطینی علاقوں سے مصر جانے کے لیے شرائط اور معیارات سے مشروط ہے جب کہ معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ مصر اسرائیل کے ساتھ دستخط کیے گئے پروٹوکول کے مطابق اس علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی متعدد افواج کو اس علاقے میں تعینات کرے گا۔


یورپی یونین کے مبصرین کی موجودگی

سنہ 2005ء میں جب اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی چھوڑی تو انہیں بھی وہاں سے اور رفح کراسنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا گیا اور ان کی نگرانی کا کام یورپی یونین کے مبصرین کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کر دیا گیا۔مصری اور اسرائیلی افواج وہاں سے نکل گئیں مگرسوال یہ ہےکہ کیا یہ پیش رفت مصرکے ساتھ طے پائے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

مصرکے سابق معاون وزیر دفاع میجرجنرل علی حفیظی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیانات دیتے ہوئے کہا کہ فلاڈیلفیا محور مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان ایک فلسطینی بفر زون ہے اورمصرکی مسلح افواج اس کی محافظ ہیں۔ یہ جگہ مصری سرحد پر واقع ہے اور وہاں پر اسرائیلی فوج کی موجودگی مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔ یہ ایک سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنے کا اسرائیل کوحق نہیں۔

میجر جنرل حفظی نے وضاحت کی کہ فلاڈیلفیا ایکسس 14 کلومیٹر طویل ہے اور امن معاہدے کے مطابق یہ دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ اس محور میں محدود اور مخصوص فورسز کی تعیناتی کی اجازت دیتا ہے، جس کا مقصد اسمگلنگ اور جرائم پیشہ عناصر کی دراندازی روکنے کے لیےگشت کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلاڈیلفیا محور کا ایک حصہ "ڈی" سیکٹر سے متصل ہےجو اسرائیل کی سرحد کے ساتھ ہے اور اس کی چوڑائی اڑھائی کلو میٹر ہے جب کہ دوسرا حصہ غزہ کی پٹی کے اندر واقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ڈی"سیکٹر کے حوالے سے مصراور اسرائیل کے درمیان معاہدے کی الگ سے شق موجود ہے۔ اس پرایک طرف اسرائیلی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے دستوں کی تعیناتی کی اجازت دی گئی ہے مگر اسرائیلی فوج کو وہاں پر ٹینک ، میزائل اور توپ خانے کی تعیناتی کی اجازت نہیں۔
اس طرح امن معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سرحد پر ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے کسی بھی اقدام سے گریز کریں گے۔

مصری عسکری تجزیہ نگار نے کہا کہ معاہدے میں ایک شق شامل ہے جس میں ہر فریق نے دوسرے فریق کے خلاف کسی بھی جارحانہ جنگ، تخریبی سرگرمی یا تشدد کی کارروائیوں کو منظم کرنے، اکسانے، ایک دوسرے کے خلاف کسی تیسرے فریق کی مدد کرنے یا اس میں حصہ لینے سے گریز کرنے کا پابند ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "معاہدے کے تحت اس بات کو یقینی بنانے کا بھی عہد کیا گیا ہے کہ فریقین ایسی کارروائیوں کے مرتکب افراد کو عدالت کے کٹہرے میں لانے کے پابند ہوں گے۔ مصری ریاست دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی کسی بھی اسرائیلی کوشش کو واضح طور پر مسترد کرتی ہے، جس کا اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ اشارہ دیا ہے۔

سرنگوں کی تباہی

ریٹائرڈ میجرجنرل حفظی نے وضاحت کی کہ اگر ان علاقوں میں سرنگوں کی موجودگی کا کوئی اسرائیلی ثبوتٓ ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔

اسرائیلی فوج نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے غزہ کی پٹی کو مصری سرزمین سے الگ کرنے والی رفح زمینی گزرگاہ کے فلسطینی حصے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

اسرائیل کی فوجی گاڑیاں 2005 کے بعد پہلی بار فلاڈیلفیا کے محور میں داخل ہوئیں، اور غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح لینڈ کراسنگ کے قریب ایک علاقے میں دھوئیں کے گھنے بادل اٹھنے لگے کیونکہ اسرائیل نے منگل کے روز توپ خانے سے بمباری کی مہم تیز کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں