حماس رفح کی صورت حال کی ذمہ دار ہے: محمود الھباش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر محمود الھباش نے غزہ کے علاقے رفح پر اسرائیلی حملوں میں تیزی اور مشرقی رفح سے شہریوں کے جبری انخلاء کی ذمہ داری حماس تحریک پر عاید کی ہے۔ انک کا کہنا ہے کہ رفح میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار حماس ہے۔

انہوں نے العربیہ/الحدث کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ "حماس نے اسرائیل کو غزہ پر جنگ چھیڑنے کے لیے تمام بہانے فراہم کیے ہیں۔ فلسطینی تحریک قیدیوں کی فکر نہیں اپنی بقاء کی پریشانی لاحق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ کی پٹی میں اغوا کیے گئے بے گناہ لوگ حماس کی مہم جوئی کی قیمت چکا رہے ہیں"۔
الھباش نےکہا کہ اسرائیل حماس کو غزہ کی پٹی سے اکھاڑ پھینکنا نہیں چاہتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کیسے کہہ سکتی ہے کہ وہ عسکری طور پر تیار ہے جب کہ نہتے لوگ ہیں"؟"

فلسطینی خبر رساں ایجنسی (وفا) کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی ایوان صدر نے پیر کے روز تصدیق کی کہ وہ "رفح حملے کے قتل عام کو روکنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں خاص طور پر امریکیوں کے ساتھ گہرے رابطے کر رہا ہے۔

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ رفح شہر پر حملے کے لیے اسرائیل کی تیاریاں پٹی میں انسانی تباہی اور غزہ میں یرغمالیوں کے انجام کو نظر انداز کرتی ہیں۔

تحریک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے رفح پر حملے کی تیاری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ جارحیت کو ختم کرنے والے کسی بھی معاہدے کی ذمہ داریوں سے بچنے اورانسانی تباہی کو روکنے کی تمام کوششوں کو تباہ کرنے کا ثبوت ہیں۔ اسرائیلی حملوں سے لگتا ہے کہ تل ابیب کو اپنے یرغمالیوں کی کوئی پرواہ نہیں"۔

قبل ازیں اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے سیکیورٹی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل نے مصر کو فلسطینی رفح کے مشرق میں واقع علاقوں سے بے گھر افراد کے انخلا کے لیے مطلع کیا ہے۔

براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق اسرائیل نے قاہرہ کو یقین دلایا کہ انخلاء کا عمل رفح کے مشرق میں واقع علاقوں تک محدود رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں