رفح ٹینک حملہ ، سات لاکھ فلسطینی خواتین اور لڑکیاں خطرے میں : رپورٹ اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی خواتین عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ رفح پر اسرائیلی حملہ سات لاکھ فلسطینی بیٹیوں اور خواتین کے لیے خطرے کا باعث بنے گا۔ یہ فلسطینی خواتین اور بیٹیاں غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوب میں اس سرحدی شہر میں پناہ کے لیے جمع ہیں۔

پناہ گزینوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی وجہ سے رفح شہر کی حالت بحرانی بن چکی ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ بار بار یہ خبردار کرتا رہا ہے کہ رفح پر زمینی حملہ بہت تباہ کن ثابت ہوگا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی جنگ شروع ہونے کے بعد چند مہینے میں رفح کی آبادی پانچ گنا تک بڑھ گئی ہے۔ جہاں اب کم از کم 14 لاکھ کی ابادی موجود ہے۔ جن میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا فلسطینی خواتین اور بیٹیوں کو ہے۔ جنہیں گھروں سے باہر خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کی خوراک اور صحت کے مسئال بھی دگرگوں ہیں۔ ایک بڑی تعداد بیماریوں میں مبتلا ہونے کے علاوہ زخمی خواتین کی بھی ہے۔ لیکن ان کی صحت کو درپیش ان چیلنجوں کا کوئی مداوا نہیں۔

اسرائیل نے پیر کے روز رفح کے مشرقی حصے سے لوگوں کو جبراً نکالنا شروع کیا اور رفح راہداری کو بھی اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

جبکہ منگل کے روز رفح کے اسی مشرقی حصے میں کارروائیوں کے لیے اسرائیل نے اپنے ٹینک بھی بھیج دیے ہیں اور عملاً اسرائیلی فوج غزہ میں داخل ہو چکی ہے۔

واضح رہے اقوام متحدہ کی اطلاعات کے مطابق اب تک غزہ کی جنگ میں 10 لاکھ خواتین قتل کی گئی ہیں۔ جن میں 6 ہزار مائیں شامل ہیں اور ان ماؤں نے 19 ہزار کی تعداد میں بچے اپنے پسماندگان میں چھوڑے ہیں جورفح کے پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے باقی حصوں کی طرح رفح میں بھی خواتین کے حالات بہت تکلیف دہ اور مایوس کن ہیں۔ اقوام متحدہ کی خواتین کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سیما باہوس نے کہا 'زمین پر اسرائیلی حملہ غزہ کی ان خواتین کے لیے ایک ناقابل برداشت تباہی کا سبب بنے گا۔'

خاتون ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے مطابق ایک سروے میں 93 فیصد فلسطینی خواتین نے اپنے آپ کو رفح کے پناہ گزین کیمپہوں میں موجودگی کے باعث عدم تحفظ کے خوف میں مبتلا قرار دیا ہے۔

80 فیصد فلسطینی خواتین رفح میں رہتے ہوئے سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ 68 فیصد کے پاس رہنے اور سونے کی مناسب جگہ نہیں ہے۔ جبکہ 70 فیصد سے زائد نے کہا کہ وہ بےچینی کے باعث ڈراؤنے خوابوں سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔ یہاں ان خواتین کے علاج معالجے اور کاؤنسلسنگ کے لیے کوئی مناسب سہولت موجود نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں