رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پراسرائیلی فوج کے کنٹرول پرمصر کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج کے رفح کراسنگ پر دھاوا بولنے اور اسرائیلی جھنڈا لہرانے کے چند گھنٹے بعد مصری پارلیمنٹ نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس نے تمام متعلقہ فریقوں بالخصوص اسرائیلی حکومت کو کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
دوسری جانب مصری وزارت خارجہ نے اس پیش رفت پر کہا ہے کہ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور جنگ بندی مذاکرات متاثر ہوں گے۔ وزارت خارجہ نے رفح کراسنگ پر اسرائیلی فوج کے قبضے کی شدید مذمت کی ہے۔

مصری پارلیمنٹ کے سپیکر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر حنفی جبالی نے آج منگل کو پارلیمنٹ کے مکمل اجلاس کے دوران کہا کہ پارلیمنٹ فلسطینی علاقوں کی صورت حال میں پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے رفح کراسنگ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کو "انسانیت دشمنی" قرار دیتے ہوئے ایک ڈراؤنا خواب" قرار دیا۔


مصری پارلیمنٹ

انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو قبول کرنے کا اعلان مصری کوششوں اور مصری- قطری ثالثی کے جواب میں کیا۔ حماس کا اعلان قابل ستائش ہے جسے انسانی بنیاد پر قبول کیا گیا۔ اس کا مقصد غزہ کے عوام کو درپیش مشکلات کو دور کرنا ہے تاکہ دو سو سے زائد دنوں سے جاری اسرائیلی کارروائی کو روکا جا سکے۔

ڈاکٹر حنفی الجبالی کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سےجنگ بندی کی تجاویز کوقبول کرنے کے اعلان کے اسرائیلی حکومت نے مشرقی رفح کے علاقے سے فلسطینی شہریوں کے جبری انخلاء کا حکم دیا جو فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ زمینی فوجی کارروائی کی تیاری کا اشارہ ہے۔

انہوں نے تمام فریقین سے کہا کہ وہ اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ ہم انتہائی پیچیدہ اور انتہائی حساس حالات سے نمٹ رہے ہیں، جس میں کوئی بھی فریق مضبوط یا مضبوط ترین نہیں ہے۔ ہر ایک کو بات چیت اور گفت و شنید کی زبان استعمال کرنا چاہیے۔ اختلافات کو دور کرنے کے لیے ہتھیار کے بجائے زبان کا استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ فلسطینی عوام کو درپیش مصائب سے انہیں نجات دلائی جا سکے۔

مصری پارلیمنٹ نے عالمی برادری سے شرمناک خاموشی کو توڑنے اور فلسطینی عوام کے خلاف مزید جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ اس نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے پرامن اور منصفانہ حل تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ امن کا رویہ اپنائے۔

انہوں نے غزہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک مصر کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ ہم نے امن کے حصول اور خونریزی کو روکنے کے لیے مصر کی کوششوں کو سراہتے ہیں جو مشکلات کے باوجود مسلسل امن مساعی جاری رکھے ہوئے ہے۔

مصری پارلیمنٹ نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے صدر عبدالفتاح السیسی کے ان اقدامات کی حمایت کا اعلان کیا۔

مصری دفتر خارجہ

دوسری جانب مصری وزارت خارجہ نے فلسطینی شہر رفح میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں رفح کراسنگ کے فلسطینی اطراف پر اسرائیلی کنٹرول کی مذمت کی ہے۔

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس خطرناک کشیدگی سے دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے جو بنیادی طور پر اس کراسنگ پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ یہ غزہ کی پٹی کی اہم لائف لائن ہے۔ زخمیوں اور بیماروں کے علاج کے لیے باہر نکلنے کے لیے محفوظ راستہ ہے اور غزہ میں فلسطینی بھائیوں کے لیے انسانی اور امدادی امداد کا واحد محفوظ راستہ ہے۔

مصرنےاسرائیل پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرے اور طویل المدتی اثرات کے ساتھ کشیدگی کی پالیسی سے دور رہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے اندر پائیدار جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی سخت کوششوں کو رفح میں کارروائی سے خطرہ لاحق ہوگا۔

مصر نے تمام بااثر بین الاقوامی فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کریں اور موجودہ بحران کو کم کرنے کے لیے ضروری دباؤ ڈالیں اور سفارتی کوششوں کو اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی اجازت دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں