غزہ جنگ کا آٹھواں ماہ شروع ، رفح پر ٹینکوں کی چڑھائی کا پہلا دن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سات ماہ مکمل ہونے کے بعد آٹھویں مہینے کے پہلے روز رفح پر اسرائیلی ٹینکوں کی چڑھائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ جس سے جنگی شدت میں نئے اضافے کی شروعات نظر آرہی ہے۔ امریکہ نے ان نئی جنگی شروعات کے ساتھ ہی ایک بار پھر ہائیزن ہاور نامی اپنے بحری بیڑے کو واپس اسرائیل سے متصل سمندر میں بھیج دیا ہے۔

ایک امریکی ذمہ دار نے منگل کے روز 'العربیہ' کو بتایا ہے کہ 'یہ طیارہ بردار بحری بیڑہ ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔'

واضح رہے امریکی بحری بیڑہ 26 اپریل کو مصری نہر سویز سے گزرنے کے بعد اب مشرقی بحیرہ احمر میں پہنچ چکا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے اپنے دو بحری بیڑے اسرائیل کے تحفظ کے لیے بھیج دیے تھے۔ تاہم کچھ ہفتے پہلے ہائزن ہاور نامی طیارہ بردار بحری بیڑے کو اس محاذ سے واپس بھیج دیا گیا ہے۔

اب جیسے ہی رفح پر اسرائیلی حنلے سے خطے میں کشیدگی کا احتمال ہوا تو امریکی بحری بیڑہ اسرائیل کے لیے پہلے سے آمجود ہوا ہے۔ تاہم امریکی حکام علاقائی سمندر میں اس کی آمد کی وجہ رفح پر اسرائیلی حملہ نہیں بلکہ بحریہ احمر میں حوثیوں کے حملے بتا رہے ہیں۔

پچھلے دنوں جب قاہرہ میں غزہ کی جنگ بندی کے لیے مذاکراتی عمل کی خبریں تیزی سے سامنے آرہی تھیں اور امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن یک بار پھر مشرق وسطیٰ کے دورے پر آئے تھے۔ عین انہی دنوں امریکی طیارہ بردادر جہاز ہائزن ہاور مشرق وسطیٰ میں نئے ٹاسک کے لیے رواں دواں تھا اور عین اسی روز اس کے بحریہ احمر میں پہنچنے کی خبر سامنے آئی ہے جس روز رفح پر اسرائیلی زمینی حملہ شروع ہوا ہے۔

امریکی زمہ دار نے 'العربیہ' کو بتایا ہے '19 نومبر سے لے کر اب تک حوثیوں نے تقریباً 140 حملے کیے ہیں۔' دوسری طرف 'العربیہ' کو معلوم ہوا ہے کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز کے عملے کو نہیں پتا کہ اسے خطے میں کب تک رہنا ہوگا اور اس کے عملے کے ارکان کب واپس امریکہ جا سکیں گے۔

تاہم جوبائیڈن انتظامیہ کے حکام کا اندازہ ہے کہ خطے میں گرمیوں کے ابتدائی موسم میں ہی اس طیارہ بردار بحری بیڑہ کو واپس امریکہ بھیج دیا جائے گا۔ ہائیزن ہاور کی امریکہ واپسی کے بعد بھی خطے میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رکھی جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ ایک نیا طیارہ بردار جہاز اس کی جگہ لینے کے لیے بحیرہ احمر پہنچ جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں