فلسطین اسرائیل تنازع

24 گھنٹوں کے دوران رفح پر مزید اسرائیلی حملے، پانچ فلسطینی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کی طرف سے جنگ بندی کی قبول کرنے کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کے رفح پر حملوں کا تسلسل ہے اور کم از کم مزید پانچ فلسطینی ان اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ان پانچ نئی ہلاکتوں کی تصدیق مقامی ہسپتال نے منگل کی صبح کی ہے۔ جیسا کہ اسرائیل نے رفح پر حملوں کے لیے اپنے ارادے کا بار بار زور دے کر اعادہ کیا ہے۔

منگل کے روز شہر میں کام کرنے والے کویتی ہسپتال کا کہنا کہ رات کے وقت ہسپتال میں ہلاک شدہ فلسطینیوں اور زخمیوں کی آمد وقفے وقفے سے جاری رہی۔ جبکہ علاقے میں اسرائیلی جنگی حملوں میں تسلسل سے صورحال تشویشناک ہو رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے رات کے وقت ہونے والے حملوں کی تصدیق رفح کے سیکیورٹی ذرائع نے بھی کی ہے اور عینی شاہدین بھی ان حملوں اور ہلاکتوں یا زخمی ہونے والوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حملے رات ۱۰ بجے سے ذرا پہلے شروع ہوئے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ غزہ کے جنوب اور رفح کے مشرقی حصے سے فلسطینیوں کے انخلا کا حکم بھی دہرایا گیا۔

یاد رہے حماس نے پیر کے روز ہی جنگ بندی کی ایک تجویز قبول کر لی تھی۔ تاکہ سات ماہ سے جاری یہ جنگ ختم ہو سکے۔ لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی جس تجویز کو حماس نے قبول کیا ہے وہ اسرائیلی مطالبات سے بہت دور ہے۔اس کے باوجود اسرائیلی اپنا نمائندہ وفد مذاکرات میں شرکت کے لیے قاہرہ بھیجا جائے گا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان رئیر ایڈمرل ڈینیل ہگاری کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے پیر کے روز رفح میں ۵۰ سے زائد مقامات پر بمباری کی ہے۔

دوسری جانب حماس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ثالث ملکوں مصر اور قطر کو اطلاع کر کے آگاہ کر دیا ہے کہ جنگ بندی کی تجاویز قبول کرتی ہیں۔ تاہم اب بھی مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے۔۔اس موقع پر حماس کے ایک سینئررہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ' اب یہ اسرائیل پر انحصار ہے کہ وہ جنگ بندی قبول کرتا ہے یا معاہدے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ '

اسرائیل نے رفح میں فلسطینیوں سے کہا ہے کہ فوری طور پرمشرقی حصہ خالی کر دیں۔ یہ اس کے باوجود کہا ہے کہ دنیا کے ملک چآہتے ہیں کہ رفح پر حملہ نہ ہو بصورت دیگر اس حملے کے بہت مضمرات ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ ' رفح سے شہریوں کے انخلا کی مذمت کی ہے اور کہا ' یہ محفوظ انداز سے کرنا ناممکن ہے۔'

انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ ' یہ غیر انسانی ' فعل ہے ۔ کہ اس طرح لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جائے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں