رفح:اسرائیلی ٹینکوں کی یلغار،ہسپتالوں کے ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان علاقہ چھوڑنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رفح پر منگل کے روز سے اس کے مشرقی حصے میں اسرائیلی زمینی فوج کی ٹینکوں سے چڑھائی کے بعد رفح کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی ہے اور ڈاکٹر و طبی عملہ ہسپتال چھوڑ کر جانے لگا ہے۔ یہ بات رفح میں ڈاکٹروں ، رہائشیوں اور مریضوں ؤغیرہ سے ملاقاتوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب رفح راہداری کے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں آجانے سے زخمیوں اور مریضوں کی ہسپتالوں تک رسائی میں بھی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے میں خوف کی وجہ غزہ کے ہسپتالوں پر اسرائیلی فوج کے حملوں اور سینکڑوں کی تعداد میں طبی عملے اور ڈاکٹروں کی ہلاکتیں اور گرفتاریاں بنی ہیں۔

ایک سینئیر فلسطینی سرجن جو کہ غزہ کے سب سے بڑے الشفا ہسپتال میں آرتھو پیڈک کے شعبے کے سربراہ تھے۔ چار ماہ سے زائد عرصہ جیل میں قید رہنے کے بعد اسیری کے دوران ہی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ واقع ابھی چند دن پہلے ہی سامنے آیا ہے۔

یہاں رفح میں ابو یوسف النجار ہسپتال جنوبی غزہ کے ایک علاقے میں واقع ہے۔ اتفاق سےابھی تک کام کر رہا ہے۔ وگرنہ اسرائیلی فوج نے شاید ہی کوئی ہسپتال کام کی حالت میں چھوڑا ہے جس پراس نے حملہ نہ کیا ہو یا اس کی تلاشی نہ لی ہو۔ مزید یہ کہ ان کے لیے ادویات اور طبی آلات کی ترسیل ممکن رہنے دی ہو۔

ان سب ہسپتالوں کے بارے میں بالعموم اسرائیل کی سوچ یہی رہی ہے کہ حماس ان ہسپتالوں کو اپنے مراکز کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ مگر اس بارے میں اپنی تمام تر فوجی کارروائیوں کے باوجود کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں لا سکا ہے۔ اب رفح پر زمینی حملے کی شروعات کے ساتھ ہی یوسف النجار ہسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ارکان میں خوف کی لہرپیدا ہو گئی ہے اور اطلاعات کے مطابق وہ ہسپتال چھوڑ کرجانا شروع ہو گئے ہیں۔

یوسف النجار ہسپتال کے ایک ڈاکٹر مروان الحسن نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' کو بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے رفح پر حملے کے سلسلے میں جس علاقے کو جنگی زون قرار دیا ہے یوسف النجار ہسپتال اسی جنگی زون میں آتا ہے۔ اس لیے ہسپتال کے میدان جنگ کے قلب میں آجانے سے کچھ ڈاکٹر اور ان کا معاون عملہ چھوڑ کر جانے لگا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مروان الحسن نے کہا 'بلا شبہ کئی شعبوں کے عملے کے ارکان چلے گئے ہیں اور مریضوں کو دقتوں کا سامنا بڑھ گیا ہے مگر گرودوں کے ڈائیلائسس وغیرہ کی سہولت ابھی دی جارہی ہے۔ کیونکہ اگر یہ شعبہ بھی بند ہو گیا تو گردوں کے امراض میں مبتلا تو جاں بلب حالت میں ہوں گے۔'

دوسری جانب طبی امداد کے شعبے سے وابستہ گروپوں کا کہنا ہے کہ رفح راہداری بند کر دیے جانے سے مریضوں اور زخمیوں کی مصری ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں منتقل کرنے کی سہولت بھی ختم ہو گئی ہے۔ واضح رہے فلسطینی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ منگل کے روز 140 مریضوں اور زخمیوں کو غزہ سے مصر منتقل کیا جانا تھا مگر ان سب کو رفح راہدادری کی بندش کے باعث جانے سے روک دیا گیا ہے۔

کویتی ہسپتال کے ڈاکٹر محمد ابو خیل نے کہا ' رفح راہداری کی بندش سے ہسپتال پر مریضوں اور زخمیوں کا بوجھ بڑھنے کا اندیشہ ہے، ہمارے پاس محدود بستر اور محدود وسائل ہیں جبکہ دوسرے بہت سارے ہسپتالوں کا بوجھ بھی پہلے سے موجود ہے۔ اب صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں