رفح میں ہماری فوجی کارروائی مصرکے ساتھ امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان اوفیر گینڈل مین نے کہا ہے کہ اسرائیل مصری سرحد کے قریب فوجی آپریشن کرنے سے متعلق حساسیت سے آگاہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائی دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔

گینڈل مین نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ فوج کی طرف سے جنوبی غزہ میں رفح بارڈر کراسنگ پر کیا جانے والا آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حماس کا "خاتمہ" نہیں کیا جاتا اور پٹی میں قید افراد کو رہا نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری افواج رفح کراسنگ پر اپنی توجہ مرکوز اور محدود فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے حماس کئی سالوں سے غزہ کی پٹی میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ فوج نے کراسنگ کے آس پاس میں حماس کے 20 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات اور ان کے حوالے سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کے بارے میں گینڈل مین نے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کے حوالے سے حماس کی تجویز "ہمارے اصولوں اور موقف سے بہت دور ہے۔"

کل منگل کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی کو مصری سرزمین سے الگ کرنے والی رفح زمینی گذرگاہ کے فلسطینی حصے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس علاقے میں اسرائیلی فوج نے سوموارکو کارروائی شروع کی تھی۔

مصر کا خیال ہے کہ رفح میں خطرناک کشیدگی سے دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے جو بنیادی طورپراس کراسنگ پر انحصار کرتے ہیں کیونکہ یہ غزہ کی پٹی کی اہم لائف لائن ہے۔ زخمیوں اور بیماروں کے علاج کے لیے باہر نکلنے کے لیے محفوظ راستہ ہے اور غزہ میں فلسطینیوں کے لیے انسانی اور امدادی امداد کے داخلے کا واحد راستہ ہے۔

مصرنے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرے اور طویل المدتی اثرات کے ساتھ کشیدگی کی پالیسی سے دور رہے، جس سے غزہ کی پٹی کے اندر پائیدار جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی سخت کوششوں کے مستقبل کو خطرات لاحق ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں