رفح وشالوم راہداریوں پر اسرائیلی فوج کا قبضہ،ایریزراہداری پریہودی آبادکاروں کی چڑھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی آباد کار غزہ میں انسانی بنیادوں پر بھجوایا جانے والی امدادی سامان روکنے کے لیے ایک بار پھر متحرک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ منگل کے روز اس وقت پیش آیا جب کچھ امدادی سامان لے کرایک امدادی قافلہ اردن سے شمالی غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ یہ امدادی قافلہ ایریز کے راستے شمالی غزہ پہنچنا تھا لیکن راستے ،میں اس پر یہودی آباد کاروں نے حملہ کر کے اسے روک دیا۔

ایک طرف اسرائیلی فوج نے کرم شالوم کی راہداری پہلے سے بند کر رکھی تھی۔ پیر کے روز سے اسرائیلی فوج نے رفح کی راہداری کا بھی غزہ کی جانب سے آپریشنل کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کر دیا۔ گویا جو بھی چیز غزہ میں داخل ہونے کے لیے رفح کے راستے مصر سے پہنچے گی اسے اسرائیلی فوج کی مرضی کے بغیر چلنے نہیں دیا جائے گا۔

اس صورت حال میں رفح راہداری سے امدادی قافلوں کی آمدورفت عملاً رک گئی ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کے روز ایک بیان میں اسرائیل پر زور دیا ہے کہ رفح پر ٹینکوں سے حملہ فوری طور پر روکے اور رفح راہداری کو فوری بنیادوں پر کھولے۔ سیکرٹری جنرل نے کہا ہے ، تمام چیزیں غلط سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ان حالات میں اب شمالی غزہ کو امدادی سامانپہنچانے کے لیے قافلے پر ایریز میں یہودی آباد کاروں نے حملہ کر دیا ہے۔

اس ایریز میں پیش آنے والے واقعے کی اردن نے شکایات کی ہے کہ منگل کے روز ایریز میں یہودی آباد کاروں نے امدادی قافلے کو روکا۔ اردن کے مطابق یہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں دوسرا موقع ہے کہ یہودی آباد کاروں نے امدادی قافلے کو روکا یا اس پر حملہ کیا ہے۔

تاہم اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بعد ازاں اردن سے چلنے والا یہ امدادی قافلہ مغربی کنارے سے ہوتا ہوا شمالی غزہ میں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اردنی ترجمان سفیان قداح کے مطابق قافلے پر راستے میں حملہ یہودی انتہا پاسند آباد کاروں نے کیا تھا۔

خیال رہے یہودی آباد کار اس طرح کی وارداتیں پہلے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ اردنی ترجمان نے مزید کہا ایک قابض طاقت کے طور پر اسرائیل کو یہودی آباد کاروں کو ان واقعات سے روکنا چاہیے۔

غزہ کو سامان کی ترسیل میں پیدا ہونےوالی نئی رکاوٹوں کے نتیجے میں ایک امکان بڑھ گیا ہے کہ امریکہ کی غزہ سے متصل تعمیر کردہ نئی بندر گاہ سے امدادی سامان کی ترسیل غزہ کو ممکن بنانا شروع کر دی جائے۔ یوں غزہ سے جڑے سمندری حصے میں امریکی بحریہ کی متحرک موجودگی کا جواز بھی بن جائے گا۔

امریکہ نے رفح پر اسرائیلی زمینی حملے کے منگل کے روز محدود آغاقز کے روز سے بھی پہلے حفظ ماتقدم کے طور پر اپنا طیارہ بردار بحری بیڑہ بحیرہ احمر منتقل کر دیا ہے۔ یہ امریکی بحری بیڑہ غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد دوسرے بار علاقے میں اسرائیلی مدد کے لیے پہنچا ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ یہ حوثیوں کے حملوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں