رفح کراسنگ کو کون کنٹرول کرتا ہے؟ یہ اتنا اہم کیوں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز کہا ہے کہ اس نے مصر کے ساتھ سرحد پر جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کراسنگ کے فلسطینی کنارے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ کراسنگ غزہ کی پٹی میں امداد کی منتقلی اور جنگ میں زخمی ہونے والے افراد کو نکالنے کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے۔

غزہ کے باشندوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

سات ماہ قبل جنگ کے آغازکے بعد سے رفح کراسنگ پٹی کی واحد کراسنگ جسے اسرائیل نہیں چلاتا اوراسے بیرونی دنیا اور غزہ کے 2.3 ملین لوگوں کے درمیان اہم لائف لائن کا درجہ حاصل رہا ہے، کیونکہ اس سے انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دی گئی تھی اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کے خاتمے کے بعد مریضوں اور جنگ کےزخمیوں کو اسی کراسنگ سے بیرون ملک منتقل علاج کے لیے منتقل کیا جاتا رہا ہے۔

ایک ہیومینیٹرین ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ کراسنگ سے امداد کا بہاؤ رک گیا ہے۔

غزہ کی پٹی کراسنگ اتھارٹی کے ترجمان ہشام عدوان نے کہا کہ "اسرائیلی قابض فوج رفح کراسنگ کو بند کرنے کے بعد پٹی کے رہائشیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی تیاری کررہی ہے۔ رفح کراسنگ کی بندش کینسر جیسے موذی مرض کا شکار افراد کی بیرون ملک منتقلی میں ایک بڑی مشکل پیدا کررہی ہے کیونکہ ادھر صحت کا نظام پہلے ہی بری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ اس بندش کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ کاریم شالوم کراسنگ جو جنوب میں واحد دوسری کراسنگ پوائنٹ ہے اور جس کے ذریعے غزہ تک سب سے زیادہ امداد حال ہی میں پہنچائی گئی ہے کو بھی حماس کے راکٹ حملے میں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے ترجمان جینز لایرکے نے کہا کہ رفح کراسنگ کی بندش کی وجہ سے غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے دو اہم شریانیں بند ہو گئی ہیں اور پٹی کے اندر بہت کم ذخیرہ ہے۔

ادھر فلسطینی پناہ گزینوں کی ذمہ دار ایجنسی "اونروا" نے"ایکس" پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ "اگر سپلائی لائنیں منقطع ہو گئیں تو خاص طور پر شمالی غزہ کی پٹی میں بھوک کی تباہ کن صورت حال پیداہوسکتی ہے"۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے شمالی غزہ کی پٹی میں "بڑے پیمانے پر قحط" پھیلنے سے خبردار کیا۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پہلے تشویش ظاہر کی تھی کہ مصر اور غزہ کے درمیان کراسنگ بند کرنے سے ادویات کی فراہمی اور طبی کارکنوں کے داخلے پر خاصا اثر پڑے گا۔

رفح کراسنگ کو اتنا اہم کیوں سمجھا جاتا ہے؟

اسرائیل غزہ اور اس کی بیشتر زمینی سرحدوں تک تمام سمندری اور فضائی رسائی کو کنٹرول کرتا ہے۔

اسرائیل نے سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد غزہ کی پٹی پر عائد کردہ پابندیوں کو مزید سخت کر دیا تھا، جس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی مہم شروع کر دی تھی۔

اسرائیلی سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد رفح کراسنگ واحد راستہ تھا جس کے ذریعے غزہ کے باشندے ساحلی پٹی سے نکل سکتے تھے۔ یہ انسانی امداد پہنچانے کی کوششوں کا مرکز بھی بن گیا اور اسی سے زخمیوں اور غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والوں کوباہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

قطرنے امریکہ کے ساتھ مل کر مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدے کی ثالثی کی تاکہ محدود انخلاء کی اجازت دی جائے۔

زخمیوں کا پہلا گروپ جنگ شروع ہونے کے تقریباً تین ہفتے بعد یکم نومبر کو رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی سے روانہ ہوا، اس کے بعد غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والوں کی پہلی کھیپ آئی۔

اسرائیل نے منگل سے پہلے کراسنگ کو براہ راست کنٹرول نہیں کیا تھا، لیکن وہ جنوبی غزہ میں کاریم شالوم فوجی اڈے سے اور نگرانی کے دیگر ذرائع سے تمام سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا تھا۔ 2005 میں غزہ سے اسرائیل کے انخلاء کے بعد رفح کراسنگ پر اسرائیلی افواج کی یہ پہلی واپسی ہے۔

امداد پہنچانےکے دوسرے طریقے کیا ہیں؟

ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد اسرائیل نے بتدریج مزید کراسنگ کھول دیے، جن میں سے آخری یکم مئی کو شمال میں ایریز کراسنگ تھی جو سات اکتوبر کے حملوں کے دوران تباہی کے بعد سے بند تھی۔

ایریز کراسنگ کو دوبارہ کھولنا غزہ میں قحط کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی امدادی اداروں کے اہم مطالبات میں سے ایک تھا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ پٹی کے شمالی حصے میں خوراک کی شدید قلت کا شکار رہے ہیں۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے یکم مئی کو بتایا کہ اسے روزانہ 500 امدادی ٹرکوں کو غزہ لانے کا ہدف دیا گیا ہے۔

کریم شالوم کراسنگ جہاں اسرائیل غزہ اور مصر کی سرحدیں ملتی ہیں دسمبر میں دوبارہ کھول دی گئی تھی اور اس کے بعد سے غزہ کے لیے 14,000 سے زیادہ امدادی ٹرک اس سے گزر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں