عالمی برادری سے رفح میں اسرائیلی نسل کشی روکنے کا پر زور قطری مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیل کی جانب سے مصر کے ساتھ غزہ شہر کی گذرگاہ پر قبضے اور وسیع تر حملے کی دھمکیوں کے بعد ثالث قطر نے بدھ کے روز بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ رفح میں "نسل کشی" روکے۔

اسرائیل اور مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان ثالثی کرنے والی خلیجی ریاست نے ایک بیان میں استدعا کی ہے کہ "شہر پر حملے اور نسل کشی کے جرم کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی کی جائے۔"

اسرائیل نے بدھ کے روز مصر کے ساتھ مرکزی سرحدی گذرگاہ پر قبضہ کرنے کے بعد غزہ کی پٹی میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ بین الاقوامی اعتراضات کے باوجود اسرائیل نے کئی ہفتوں سے رفح پر زمینی دراندازی شروع کرنے کا عزم کیا ہوا ہے۔

بے گھر شہریوں کی بڑی تعداد والے جنوبی شہر پر حملے ایسے وقت ہوئے جب قاہرہ میں مذاکرات کاروں اور ثالثین کی ملاقات ہوئی تاکہ سات ماہ کی جنگ میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

قطر جو 2012 سے دوحہ میں حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی کرتا رہا ہے، مصر اور امریکہ کے ساتھ کئی مہینوں سے اسرائیل اور فلسطینی گروپ کے درمیان پسِ پردہ ثالثی میں مصروف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں