کاش میں جنگ سے چھٹکارا پاتی اور ماں بن سکتی: فلسطینی خاتون کی دکھی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی ریھام ایک جنگ سے بری طرح متاثر ہونے والی خواتین میں سے ایک ہیں جس کے تمام خواب چکنا چور ہوگئے اور وہ خود زخمی ہو کرقاہرہ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرت ہوئے ریھام نے اپنی چکنا چور ہونے والی خواہشوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ "کاش میں جنگ سے نجات پاتی اور ماں بن سکتی"۔

وہ ایک سادہ گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور ایسی زندگی بسر کر رہی تھی جس میں ضرورت کے سوا کچھ نہیں تھا، لیکن اس نے اس حالت پر اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے دوسرے باشندوں کی مشکلات کو دیکھ کر اللہ کا شکر بجا لانے پرمجبور ہے۔

ریھام جو بریج میں اپنے گھر پر اسرائیلی بمباری میں اپنے اعضاء اور ایک آنکھ سے محروم ہوگئی تھی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کواپنے اوپر گذری داستان سنائی۔

بار بار نقل مکانی کا سفر

ریھام کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک کئی بار غزہ کی پٹی میں بے گھر ہو چکی ہیں۔ بریج میں اپنے گھر سے اسی علاقے کے ایک اسکول، پھر اپنے ایک رشتہ دار کے گھر اور وہاں سے رفح اپنی خالہ کے پاس۔ اس نے کتنی جگہوں میں پناہ لی۔

بمباری کی رات

ریھام سلامہ الدایہ نے مزید کہا کہ وہ گذشتہ 12 جنوری کی رات گھر میں موجود تھیں اور رات گئے بمباری کی گئی۔ مکان تباہ ہوگیا اور وہ اس کے ملبے تلے دب گئیں۔ وہ کیسے زندہ بچیں اس پر وہ اور باقی لوگ بھی حیران ہیں۔ اس کے خاندان کے 15 افراد ایک مارے گئے۔ پورے خاندان میں صرف ایک بہن اور والد زندہ بچے۔

یہ اس کا واحد نقصان نہیں تھا، کیونکہ اس نے ایک ٹانگ، ایک بازو اور ایک آنکھ کھو دی تھی، دوسری ٹانگ، ہاتھ اور باقی آنکھ پر شدید چوٹیں آئیں تھیں۔

اس کی زندگی اس سادہ مستحکم صورتحال جس سے وہ اپنے گھر میں اپنے شوہر اور اس کے خاندان کے ساتھ مطمئن تھی ایک بے رحم خواب میں بدل گئی۔ وہ علاج کی کوششوں کے دوران مزید تکالیف سےگذری۔

ریھام
ریھام

غزہ اور قاہرہ کے درمیان علاج کا سفر

ریھام نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ غزہ کی پٹی کے یورپی ہسپتال میں اس کے کچھ آپریشن ہوئے جہاں وہ تقریباً دو ماہ تک رہیں، جس کے بعد وہ مصر میں مکمل علاج کے لیے چلی گئیں، ان کے ساتھ ان کے دیگرزخمی عزیزوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ وہ ہم وطن جو ضروری علاج کے لیے رفح کراسنگ کے ذریعے مصر میں داخل ہوئے تھے وہ بھی قاہرہ پہنچے۔

ریھام نے قاہرہ کے ایک ہسپتال میں کئی سرجری کرائیں۔ اس خراب ٹانگ کو بچانے کی کوششوں میں جس میں زخموں اور ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ اس کی انگلیاں بھی کھو گئی تھیں۔

شوہر سے جدائی کا درد

ریھام بتاتی ہیں کہ اس کے لیے اپنے حالات بیان کرنا کتنا مشکل ہے۔ جیون ساتھی سے دوری کا نفسیاتی صدمہ جسمانی تکلیف سے بھاری ہوگیا ہے۔ وہ زندہ ہے مگر غزہ کے اندر ہے اور وہ قاہرہ نہیں آسکتا۔ جب بمباری ہوئی تو اس وقت اس کےشوہر کسی دوسری جگہ پرتھے جس کی وجہ سے وہ بچ گئے تھے۔
ریھام نے بتایا کہ ہم کبھی کبھار کمزور انٹرنیٹ پر ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے ہیں مگر ہم مل نہیں سکتے۔ "وہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں تمہیں یاد کرتا ہوں اور میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں بھی اسے دیکھنا چاہتی ہوں اور ہم دوبارہ ایک ساتھ رہنے کی موہوم سی امید کے ساتھ زندہ ہیں"۔

سادہ خواب

اس کی المناک صحت کی حالت کے باوجود ریھام سے جب اس کی خواہشات کے بارے میں پوچھا گیا تواس کے منہ سے صرف سادہ سے خواب ہی نکلے: "میں جنگ ختم کرنا چاہتی ہوں اور ایک گھر ہو جہاں میں اور میرے شوہر اکٹھے رہ سکیں، ایک بچہ ہو، اور ماں بنو، اور مجھے ذہنی سکون ملے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں