فلسطین اسرائیل تنازع

ابھی غزہ میں مکمل قحط کا ماحول نہیں ہے: ترجمان نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم، نیتن یاہو کی ترجمان نے 'العربیہ' کے رض خان کو ایک انٹرویو کے دوران غزہ میں سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہوئے کہا 'ابھی مکمل قحط نہیں آیا ہے۔' انہوں نے اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور ذمہ داروں کی شمالی غزہ میں قحط کے حالات کی تردید کر دی ہے۔

ترجمان نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا 'میں نے اقوام متحدہ اور اس طرح کے دوسرے اداروں کی شمالی غزہ میں قحط کے حوالے سے برے حالات کی رپورٹس دیکھی ہیں ۔ یہ رپورٹس ان مختلف لوگوں نے پیش کی ہیں جوزمینی حالات سے بے خبر ہیں۔'

تل ہینرچ نے کہا ' ان لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ غزہ میں اس وقت جتنے لوگ موجود ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے فی کس کے حساب سے ضرورت کے مطابق کیلوریز پہنچ رہی ہیں۔ اس لیے کیسا قحط ؟ کوئی قحط نہیں ہے۔'

واضح رہے اقوام متحدہ نے انتباہ کیا ہے کہ غزہ میں قحط کا عروج ہے۔ یہ صورت حال اسرائیلی فوج کی کئی ماہ سے جاری جنگی مہم کے سبب پیدا ہوئی ہے۔ یہ جنگ سات اکتوبر 2023 سے جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے خوراک سے متعلق پروگرام 'ورلڈ فوڈ پروگرام' کے سربراہ سنڈے مکین نے امریکی ٹی وی چینل ' این بی سی ' کے ساتھ ایک انٹرویو میں غزہ کی ناکہ بندی اور خوراک و امدادی سامان کی نقل و حرکت پر لگائی گئی قدغنوں کو اس قحط کا سبب بتایا تھا ۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی طرف سے ہی غزہ کے قحط کو قدرتی قحط کے بجائے انسانی ساختہ قحط قرار دیا تھا کہ یہ اسرائیلی ناکہ بندیوں اور پابندیوں کی وجہ سے جنم لے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام اور دوسری عالمی شخصیات کے ساتھ ساتھ امدادی سامان کی تقسیم سے متعلق ادارے اسرائیل کو کئی ماہ سے انسانی بنیادوں سے فراہم کی جانے والی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے ملک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جیسا کہ رفح راہداری اور کرم شالوم راہداری پر ان دنوں بھی اسرائیلی فوج نے سخت رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔

مشرق وسطیٰ

اقوام متحدہ کے ذمہ داروں نے بارہا غزہ میں امداد اور خوارک فراہمی کی راہ میں اسرائیلی رکاوٹوں کو قحط کا باعث قرارا دیا ہے اور عالمی برادری کو متوجہ کیا ہے۔ 'ورلڈ فوڈ پروگرام ' کے ترجمان نے بعد ازاں بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے پی ' کو بتایا کہ' کسی علاقے میں قحط ڈکلئیر کرنے کے لیے تین مراحل کو دیکھنا ہوتا ہے یہ تینوں مراحل شمالی غزہ میں طے ہو چکے ہیں۔ '

تاہم نیتن یاہو کی ترجمان کا کہنا ہے' ہم نے شمالی غزہ کے حوالے سے متعدد بین الاقوامی تنظیموں سے سنا ہے۔ یہ بین الاقوامی ادارے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ۔ ان سب کا کہنا ہے کہ ہمیں گزہ میں امدادی کی فراہم کو مزید کم کرنا چاہیے۔ کیونکہ غزہ میں لوگوں کی ضرورت سے بھی زیادہ امداد اور خوراک پہنچائی جارہی ہے۔' گویا اسرائیل اور اس کے اتحادی اور شراکت دار سمجھتے ہیں کہ غزہ میں خوراک کی اس قدر بھر مار ہو گئی ہے اب ضائع ہورہی ہے۔ اور سنبھالنے کی جگہ نہیں مل رہی ہے۔

تل ہینرچ نے 'العربیہ 'سے یہ بھی کہا ' ایک سو سے زائد ٹرک شمالی غزہ میں حالیہ دنوں میں داخل ہوئے ہیں، یہ اس ضرورت سے زیادہ ہیں جو یہاں درکار تھی۔'اس لیے ہمارے ساتھ اشتراک رکھنے والی تنظیمیں کہتی ہیں کہ غزہ میں امداد کم کر کے ضائع ہونے سے روکی جا سکتی ہے۔'

اسرائیل کی رفح میں جنگ

اپنے انٹرویو کے دوران ہینرچ اور خان نے رفح پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ جہاں اسرائیل کا تازہ ترین جنگی آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ جہاں 14 لاکھ سے زائد فلسطینی اس وقت رہے ہیں کہ ان کی بڑی تعداد کو غزہ چھوڑ کر رفح میں پناہ لینا پڑی تھی۔

نیتن یاہو کی ترجمان نے اس بارے میں کہا ' اسرائیل نے حماس پر فوجی دباؤ مزید بڑھانے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ رفح میں بھی جنگی مہم جاری رکھی جائے گی۔ تاکہ حماس کو اسرائیل کے 132 یرغمالی رہا کرنے پر مجبور کیا جاسکے ۔

ایک مقصد جو رفح پر اسرائیلی حملے کا ہے وہ اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے حماس کی طرف سے مزید کسی حملے اور خطرے سے بچانا ہے۔

اس سوال پر کہ اسرائیل نے اس کے باوجود رفح پر جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کہ حماس نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ ترجمان تل ہینرچ نے کہا ' عسکری گروپ دنیا کے سامنے ایسی باتیں کر کے پی آر بنانے والے سستے حربے استعمال کر رہا ہے۔' بد قسمتی بین الاقوامی برادری میں اور بہت سے عالمی ذرائع ابلاغ میں اس کی باتوں میں آچکے ہیں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں