اسرائیل نے امریکا کے فراہم کردہ بم فلسطینی شہریوں کو مارنے کے لیے استعمال کیے: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز پہلی بار اسرائیل کو اعلانیہ طور پر خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی افواج نے جنوبی غزہ میں پناہ گزینوں سے کھچا کھچ بھرے شہر رفح پر بڑا حملہ کیا تو امریکا اسے ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دے گا۔

بائیڈن نے سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، "میں نے واضح کر دیا کہ اگر وہ رفح کا رخ کرتے ہیں تو میں وہ ہتھیار فراہم نہیں کروں گا جو تاریخی طور پر رفح اور اُن شہروں سے نمٹنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں جہاں یہ مسئلہ موجود ہے۔"

بائیڈن کے تبصرے رفح پر اسرائیلی حملے کو روکنے کی کوشش میں ان کے آج تک کے مضبوط ترین عوامی اظہار کے نمائندہ ہیں جبکہ یہ امریکہ اور شرقِ اوسط میں اس کے مضبوط ترین اتحادی کے درمیان بڑھتی ہوئی پرخاش کو نمایاں کرتے ہیں۔

بائیڈن نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں حماس کو ختم کرنے کی غرض سے سات ماہ قبل جو حملہ کیا تھا، اس میں شہریوں کو مارنے کے لیے امریکی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی مہم میں اب تک 34,789 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اسرائیل کو بھیجے گئے 2,000 پاؤنڈ وزنی بموں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا، "غزہ میں شہری ان بموں اور دیگر طریقوں کے نتیجے میں مارے گئے ہیں جن سے اسرائیلی افواج آبادی کے مراکز کا تعاقب کرتی ہیں۔"

ایک سینئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن نے رفح میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی ترسیل کا بغور جائزہ لیا تھا اور اس کے نتیجے میں 2,000 پاؤنڈ (907 کلوگرام) وزنی 1800 بموں اور 500 پاؤنڈز وزنی 1,700 بموں پر مشتمل ایک کھیپ کو روک دیا۔

اسرائیل کے اقوامِ متحدہ کے سفیر گیلاد اردن نے اس ہفتے کے اوائل میں واشنگٹن کے ترسیل میں تاخیر کے فیصلے کو "انتہائی مایوس کن" قرار دیا حالانکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ امریکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دے گا۔

اسرائیل نے اس ہفتے رفح پر حملہ کیا جہاں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزین ہیں لیکن بائیڈن نے کہا کہ وہ اسرائیل کے حملوں کو مکمل اور بھرپور حملہ نہیں سمجھتے کیونکہ انہوں نے "آبادی کے مراکز" پر حملہ نہیں کیا۔

یہ انٹرویو چند گھنٹے بعد اس وقت جاری کیا گیا جب سیکرٹری دفاع لائیڈ جے۔ آسٹن نے اعلانیہ طور پر تسلیم کیا کہ گذشتہ ہفتے بائیڈن کے ہزاروں وزنی بموں کی فراہمی روکنے کا فیصلہ رفح کے لیے تشویش کی وجہ سے تھا جہاں واشنگٹن شہری تحفظات کے بغیر ایک بڑے اسرائیلی حملے کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والا اب تک سب سے بڑا ملک ہے اور سات اکتوبر کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے بعد اس کی طرف سے ترسیل میں تیزی آئی۔

2016 میں امریکہ اور اسرائیلی حکومتوں نے 10 سالہ مفاہمت کی تیسری یادداشت پر دستخط کیے جس کے تحت 10 سالوں میں 38 بلین ڈالر کی فوجی امداد، فوجی سازوسامان خریدنے کے لیے 33 بلین ڈالر اور میزائل دفاعی نظام کے لیے 5 بلین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ گذشتہ مہینے کانگریس نے اسرائیل کے لیے 26 بلین ڈالر کی اضافی اعانت کی منظوری دی۔

بائیڈن نے کہا، امریکہ اسرائیل کو دفاعی ہتھیار فراہم کرتا رہے گا جس میں اس کا آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم مسلسل اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسرائیل آئرن ڈوم اور حال ہی میں شرقِ اوسط سے ہونے والے حملوں کا جواب دینے کی صلاحیت کے لحاظ سے محفوظ ہو۔ لیکن یہ صرف اور صرف غلط ہے۔ ہم ہتھیار اور توپ خانے کے گولے فراہم کرنے نہیں جا رہے، نہیں جا رہے ہیں۔"

بائیڈن نے سی این این کو یہ بھی بتایا، وہ ان عرب ریاستوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو اور دو ریاستی حل کی طرف منتقلی میں مدد کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں