ایران کی بقاء کو خطرہ لاحق ہوا تو جوہری ہتھیاروں بارے سوچ بدل دیں گے: مشیر خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے خلاف اپنے دھمکی آمیز لہجے میں تبدیلی میں ایران نے پہلی بار باضابطہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کا عندیہ دیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر کمال خرازی نے کہا کہ اگر ایران کے وجود اس کی بقاء کو خطرہ ہوا تو تہران جوہری ہتھیاروں کے حوال سے اپنی سوچ تبدیل کر دے گا۔

خیال رہے کہ کمال خرازی ماضی میں بارہا کہہ چکے ہیں ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کررہا ہے۔ ان کا جوہری پروگرام توانائی کے حصول اور پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی اس صورت میں ہو سکتی ہے جب اسرائیل سے ایران کے وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے۔

آج جمعرات کو ایران کی سٹوڈنٹس نیوز ایجنسی نے مسٹر خرازی کے حوالے سے کہا کہ "اگر صیہونی حکومت (اسرائیل) ہماری جوہری تنصیبات پر حملہ کرتی ہے تو ہماری مزاحمت بدل جائے گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ تہران پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ اس کے پاس ایسے ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

یاد رہے کہ خامنہ ای اور دیگر ایرانی حکام ماضی میں ایک سے زیادہ بار اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ حکومت کا نظریہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

ایرانی رہ نما نے ہزار سال کے اختتام پر ایک فتوے میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے منع کیا تھا اور انہوں نے 2019ء میں اپنے موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ "غلطی سے جوہری بم بنانا ، ذخیرہ کرنا اور ان کا استعمال حرام ہے"۔

سنہ 2021ء میں ایران کے اس وقت کے وزیر انٹیلی جنس نے2021ء میں کہا تھا کہ مغربی دباؤ تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی کوشش کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

یورینیم کی افزودگی

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنے کے لیے آپریشن کیے ہیں جو کہ ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے 90 فیصد کے قریب ہے۔

"آئی اے ای اے" کی رپورٹ کے مطابق اس مواد کو اعلیٰ سطح تک افزودہ کرنا دو قسم کے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔

تہران بار بار جوہری ہتھیار رکھنے کی کوشش سے انکار کرتا ہے،حالانکہ کوئی دوسرا ملک جوہری ہتھیار بنائے بغیر افزودگی کی اس سطح تک نہیں پہنچا ہے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بوشھر میں جوہری ری ایکٹر کے سامنے میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ [اے ایف پی]
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بوشھر میں جوہری ری ایکٹر کے سامنے میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں۔ [اے ایف پی]

پچھلے سال ایران نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کو نامعلوم مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے آثار کے بارے میں طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہونے والی تحقیقات میں تعاون کرنے اور 2022 میں ہٹائے گئے نگرانی کے کیمرے اور دیگر نگرانی کے آلات کو دوبارہ نصب کرنے کے لیے جامع ضمانتیں فراہم کی تھیں۔

تاہم بین الاقوامی ایجنسی کی رکن ممالک کو رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ایران کی جوہری تنصیبات کی معائنہ کاری میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں