جوبائیڈن کا رفح جنگ پر انتباہی بیان سے اسرائیل کو اظہار مایوسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر نے امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے 'رفح میں جنگ کی تو اسلحے کی بعض اقسام کی سپلائی روکے جانے کی دھمکی' پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی سفیر نے کہا' یہ امریکی بیان بڑی مشکل اور مایوسی والا ہےجو صدر جوبائیڈن کی طرف سے سننے کو ملا ہے۔ '

اس پر اس لیے بھی اسرائیلی سفیر نے زیادہ مایوسی ظاہر کی ہے کہ ان کے بقول یہ بیان اس امریکی صدر نے دیا ہے جس نے جنگ کے آغاز سےاب تک کی ساری اسرائیلی جنگ کے دوران اسرائیل ہر ممکن حمایت کی ہے اور اس وجہ سے اسرائیل امریکہ کا ممنون رہا ہے۔

اسرائیلی سفیر گیلاد اردان کا یہ بیان اسرائیل کے سرکاری ریڈیو سے نشر ہوا ہے۔یہ صدر جوبائیڈن کے انتباہی بیان پر اسرائیل کا سب سے پہلا رد عمل ہے جو اب تک سامنے آیا ہے۔

واضح رہے اسرائیل نے غزہ میں جنگ کے سات ماہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی رفح پر فوجی ٹینکوں کی چڑھائی سے عالمی برادری کی طرف سے رفح پر حملہ نہ کرنے کے مطالبات کو عملی طور پر رد کر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ رفح حماس کی باقی ماندہ چار فوجی بٹالینز کا گھر ہے۔ اس لیے رفح پر حملہ انتہائی ضروری ہے۔

صدر جوبائیڈن نے اپنے تازہ بیان میں صاف انداز سے کہا ہے کہ ' اگر انہوں نے رفح میں جنگ کی تو میں ان کو وہ اسلحہ فراہم نہیں کروں گا جو اس سے قبل شہری آبادیوں میں اسرائیل استعمال کر چکا ہے۔ امریکی صدر نے یہ انتباہ ' سی این این ' کو دیے گئے ' انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

صدر جوبائیڈن نے کہا 'انہی بموں کی وجہ سے غزہ میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ لیکن یہ سب بالکل غلط ہے۔'

گیلاد اردان نے کہا ' صدر جو بائیڈن کے ان ریمارکس سے اسرئیل کے درمیان ایران، حماس ، حزب اللہ وغیرہ کو اپنی کامیابی کی امید نظر آنے لگے گی۔'

اگر ہمیں رفح کے وسط میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے تو وہاں موجود ہزاروں دہشت گردوں کو فائدہ ہو گا۔ جن کے ساتھ حماس کے لیڈر ہیں اور جہاں اسرائیلی یرغمالی ہیں۔ ہم نے اس راستے سے اپنے اہداف حاصل کرنے کی امید باندھ رکھی ہے۔'

خیال رہے غزہ کی جنگ کے آٹھویں ماہ کے شروع میں امریکہ نے جن بموں کی اسرائیل کو فراہمی روکنے کی دھمکی دی ہے وہ دفاعی ضرورت کے بم یا ہتھیار نہیں بلکہ یہ جارحانہ حملوں اور جنگ کی ضرورت ہیں۔ اس لئے اسرائیل کو شہریوں کی سکیورٹی کا بھی سوچنا چاہیے۔

یاد رہے اس سے پہلے اسرائیل نے غزہ کے فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا تھا کہ وہ جنوبی غزہ کی طرف اور رفح کی طرف نکل جائیں۔ اس وقت اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہریوں سے کہا تھا کہ رفح محفوظ تریں علاقہ ہے۔ اب اسی کو جنگ کی لپیٹ میں لیا جارہا ہے۔ جس پر دنیا می اعتراض کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں