حماس کے سابق یرغمالیوں کا غزہ کی پٹی میں موجود باقی افراد کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ کے آزاد شدہ یرغمال گیبریلا لیمبرگ اور ان کے بھائی فرنینڈو مارمن نے اس ہفتے پہلی بار آشوٹز کا دورہ کیا اور کہا کہ وہ صرف ایک چیز چاہتے ہیں: باقی تمام کے لیے آزادی۔

پیر کو اسرائیل کا ایک وفد پولینڈ کے نازی اموات کے سابق کیمپوں کے آش وٹز-برکیناؤ کمپلیکس میں سالانہ مارچ آف دی لونگ میں شامل ہوا۔ ان میں بدستور قید افراد کے رشتہ دار، سات اکتوبر کے حملوں میں زندہ بچ جانے والے اور سوگوار والدین شامل تھے۔

تمام افراد نے غزہ کی پٹی کے یرغمالیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے روایتی زرد رنگ کے ربن پہن رکھے تھے۔ غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی حماس تحریک سات ماہ سے جنگ میں ہیں۔

آش وٹز کے ممنوعہ گیٹ کے باہر لیمبرگ نے اے ایف پی کو بتایا، "ہمارے لیے اب بھی سات اکتوبر ہی ہے اور رہے گا جب تک تمام یرغمالی اپنے گھروں کو واپس نہ آ جائیں۔"

اس دن حماس نے ساحلی علاقے کے قریب اسرائیلی برادریوں پر حملہ کیا جس میں 1,170 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے حماس کو ختم کرنے کا عزم کیا اور غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق وہاں کم از کم 34,904 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

غزہ میں ممکنہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر قاہرہ میں ثالثی مذاکرات جاری ہیں۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو دنیا کو خوف زدہ کر دینے والے اس تنازعے میں یہ صرف دوسرا وقفہ ہو گا۔

پولینڈ میں کچھ مارچ کرنے والے افراد نے کہا، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو جنگ بندی پر اتفاق کرنا چاہیے جس سے بقیہ یرغمالی گھر پہنچ جائیں۔

لیمبرگ نومبر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی میں اپنی بہن کے ساتھ رہا ہوئیں جب 100 سے زیادہ یرغمالیوں کو آزاد کیا گیا جن میں سے 80 اسرائیلیوں کو اسرائیلی جیلوں میں قید 240 فلسطینی قیدیوں کے عوض رہا کیا گیا۔

ان کا بھائی مارمن دو یرغمالیوں میں سے ایک تھا جو غزہ پر ایک مہلک اسرائیلی چھاپے میں بازیاب کرائے گئے تھے۔

'انھیں ابھی گھر واپس لائیں'

جس دن جنگ شروع ہوئی، لیمبرگ اپنے بھائی سمیت چار دیگر رشتہ داروں کے ساتھ غزہ کے قریب کبوتز نیر یتزک میں تھیں جب حماس نے حملہ کیا۔

وہ بھاگ کر گھر کے محفوظ کمرے میں پہنچے اور کرسی کے ساتھ دروازہ بند کرنے کی ناکام کوشش کی۔ انہیں اغوا کر کے غزہ لے جایا گیا۔

لیمبرگ جو اب آزاد ہیں، نے اسرائیل کے اندر کچھ نمایاں شخصیات کے برعکس حماس کے حملے کا ہولوکاسٹ سے موازنہ کرنے سے انکار کر دیا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ جلد از جلد معاہدہ چاہتی ہیں تاکہ باقی یرغمالی بھی آزاد ہو سکیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "80 سال پہلے یہودی پوری دنیا میں بکھرے ہوئے تھے لیکن آج ہمارے پاس ایک ریاست ہے۔"

""سات اکتوبر کو ہمیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ لوگوں نے ہمیں قتل کیا اور ریاست نے ہماری حفاظت نہیں کی۔

لیمبرگ نے اپنی ٹی شرٹ پر تحریر پیغام کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا، "میں کل ہی یہ (جنگ بندی) معاہدہ چاہتی ہوں، جتنی جلدی ممکن ہو۔ انہیں ابھی گھر لے کر آئیں!"

ڈینیئل لوز جو اب 90 سال کے ہیں، فرانس میں ہولوکاسٹ سے بچ گئے تھے اور اس ہفتے پہلی بار اس جگہ پر تھے جہاں نازیوں نے ان کے کئی رشتہ داروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

سات اکتوبر کو وہ بیری کبٹز میں تھے اور جب حماس نے حملہ کیا تو دوسری بار موت سے بچ نکلے۔ ان کے ہمسایوں کو قتل کر دیا گیا لیکن اس کے گھر پر حملہ نہیں ہوا۔

انہوں نے آنسو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئےکہا، "مجھے یقین ہے کہ آشوٹز میں مرنے والے میرے عزیزوں کی روحوں نے میری حفاظت کی تاکہ میں ان کی کہانی سنا سکوں۔"

برکیناؤ کی تقریب میں لوز کو ہولوکاسٹ کے ہلاک شدگان کی یاد میں ایک مشعل روشن کرنے کو کہا گیا اور انہوں نے اسے 7 اکتوبر کے متأثرین کے نام کر دیا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "جنگ میں جو کچھ ہوا وہ تکلیف دہ تھا لیکن سات اکتوبر کو مجھے اپنی جان کا خوف تھا۔"

لوز اور سات اکتوبر کو زندہ بچ جانے والوں کو بصورتِ دیگر ایک خاموش مارچ میں ہجوم نے سراہا۔

مارچ کے پانچ کلومیٹر (تین میل) کے راستے پر مظاہرین کے ایک چھوٹے سے گروپ نے فلسطینی پرچم لہرائے اور اسرائیل پر غزہ میں "نسل کشی" کا الزام لگایا۔

ان کے لیے مارچ کرنے والوں کا سادہ سا جواب تھا: "یہودی لوگ زندہ ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں