رفح کے مرکزی زچگی ہسپتال نے مریضوں کو داخل کرنا بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) نے بدھ کے روز رائٹرز کو بتایا کہ غزہ کی پٹی کے پرہجوم جنوبی شہر رفح کے مرکزی زچگی ہسپتال نے مریضوں کو داخل کرنا بند کر دیا ہے۔

یو این ایف پی اے نے رائٹرز کو بتایا کہ رفح کے مضافات میں حماس اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے سے پہلے اماراتی زچگی ہسپتال غزہ میں کل 180 میں سے روزانہ تقریباً 85 بچوں کی پیدائش کا انتظام کر رہا تھا۔

غزہ کے 2.3 ملین افراد میں سے نصف سات ماہ کی جنگ کے دوران انکلیو کے دوسرے حصوں سے فرار ہو کر غزہ آ گئے ہیں جس سے وہاں ایک ہجوم جمع ہو چکا ہے۔

اماراتی ہسپتال میں صرف پانچ ڈیلیوری بیڈ ہیں۔ لیکن مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے یو این ایف پی اے کے اعلیٰ عہدیدار ڈومینک ایلن نے گذشتہ ماہ رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی فضائی حملوں اور لڑائی کے مزید شمال تک پھیل جانے کی وجہ سے دسمبر میں رفح میں لوگ بڑے پیمانے پر آنا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد مذکورہ ہسپتال رفح میں خواتین کے لیے بچے کو پیدائش دینے کی مرکزی جگہ بن گیا۔

شہر کے دیگر ہسپتال مثلاً ابو یوسف النجار مہینوں سے جنگی زخمیوں کو داخل کر رہے ہیں اور زچگی میں مبتلا خواتین کو اماراتی ہسپتال بھیج دیتے ہیں۔

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ رفح میں خواتین ہسپتال میں ڈلیوری کرنے کی کوشش کے لیے کہاں جا سکیں گی۔ یو این ایف پی اے نے رائٹرز کو ایک بیان میں کہا، "انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے وزارت صحت کے ساتھ مل کر صحت کی متبادل سہولیات قائم کی ہیں جو مختلف سطحوں کی دیکھ بھال فراہم کر سکتی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں