لبنان میں بچوں سے زیادتی کے لرزہ خیز اسکینڈل کی چونکا دینے والی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

لبنان میں ایک نام نہاد "ٹک ٹاکرزگینگ" کے ہاتھوں بچوں سے زیادہ کےواقعات سامنے آنے کے بعد پولیس اور عدلیہ حرکت میں آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس گینگ کے گرفتار عناصرکے خلاف باقاعدہ مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ملزمان میں دندان ساز بھی شامل

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ برف کے گولے کی مانند ہے جتنا زیادہ معلومات، مظالم اور نام سامنے آئے ہیں اتنی زیادہ چونکا دینے والی معلومات کا بھی پتا چلا ہے۔

لبنان کے ایک عدالتی ذریعے نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ اس کیس میں مجموعی طور پر دس ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ملزمان میں ایک دندان ساز، برج حمود کے علاقے میں گارمنٹس کی دکان کا مالک اور ایک دندان ساز بھی شامل ہے۔ سب کی الگ الگ فائل تیار کی جائےگی اوراس کے بعد ان پر فرد جرم عاید کی جائے گی۔

انٹرپول کو درخواست

ذریعے نے وضاحت کی "لبنانی حکام نے انٹرپول کو خطوط لکھے تاکہ لبنان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے ان لوگوں کو گرفتار کیا جائے جن پر ان جرائم میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ وہ متعدد ممالک میں موجود ہیں۔ مفروفر ملزمان میں پال الماؤشی نامی ایک ملزم شامل ہے جو سویڈن میں مقیم ہے۔ وہ لبنان میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں ملوث گینگ کا حصہ ہے۔ ایک اسٹیو نامی ملزم بھی مفرور ہے۔

انٹرپول کو لکھے مکتوب کے علاوہ لبنان کی عدلیہ نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پبلک سکیورٹی کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیق کرے کہ ملزم " ح ۔ س" مقدمے کی کارروائی سے چند ہفتے قبل ملک چھوڑ گیا تھا یا نہیں۔

تیس سے زیادہ ملزمان

لبنانی عدالتی ذریعے نے مشتبہ مفروف ملزمان کی تعداد تیس سے زیادہ ہے۔ سکیورٹی فورسز نگرانی اور فالو اپ کارروائیوں کے ذریعے تحقیقات کے لیے انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں"۔

دو روز قبل انسداد سائبر کرائم آفس نے جو اس کیس کی نگرانی کر رہا ہے نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو گرفتار کیا جو شمالی بیروت اور دیگر علاقوں سے اپنی کار میں بچوں کو کسروان کے علاقے شالیھات لے جا رہا تھا۔ گینگ کے اہلکاروں نے انہیں اپنے مشروبات میں نشہ آور چیز ڈال کر ان کے ساتھ زیادتی کی۔

گینگ کے ایک اور مشتبہ رکن کو بھی گرفتار کیا گیا جو ڈیجیٹل کرنسیوں کی فروخت کی دکان کا مالک تھا۔

ایک درجن کے قریب کم عمر بچوں کی گواہی

لبنان میں بچوں سے زیادہ میں ملوث گینگ کے متاثرہ ایک درجن بچوں جن میں زیادہ تر بچے اور کچھ بچیاں شامل ہیں کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں لبنانی عدلیہ کے سامنے باضابطہ طور پر بیان ریکارڈ کراچکے ہیں۔

ان کے بیانات وزارت انصاف سے وابستہ جووینائل پروٹیکشن یونین کے نمائندوں کی موجودگی میں لیے گئے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق دیگر نابالغوں نے غیر رسمی بیانات دیے ہیں۔

کم عمر بچے کی خود کشی

جب کہ پریس انفارمیشن میں تفتیش کے دوران دباؤ کے باعث ایک نابالغ کی خودکشی کی بات کی گئی تھی تاہم عدالتی ذریعے نے اس کی تردید کی اور کہا کہ "خودکشی کا واقعہ پرانا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ جاری تحقیقات سے پتہ چلے گا کہ آیا اس کا "ٹِک ٹاکرز گینگ" سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ متعدد نابالغ متاثرین کا سامنا گینگ کے ارکان سے ہوا جنہوں نے انہیں ورغلانے کے لیے بلیک میل کیا تھا۔

گینگ کے ارکان کے ساتھ متاثرین کا مقابلہ

ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ "متاثرین اور گرفتار نابالغوں گروہ کے ارکان کے درمیان تصادم اور مزاحمت کے واقعات ہوئے۔

جہاں تک متاثرین اور عصمت دری کرنے والوں کے درمیان تصادم کا تعلق ہے تو یہ "زیادہ مشکل" تھا۔ یہ متاثرین کے وکلاء کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں ہوا۔

وکیل گینگ کا حصہ

لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب متاثرین میں سے ایک نے اپنے وکیل کی موجودگی کی درخواست کی۔ جب وکیل سامنے آیا تو اسے دیکھ کر متاثرہ لڑکے کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ نام نہاد وکیل اس گینگ کا حصہ تھا۔

وکیل کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت کے لیے بار ایسوسی ایشن (شمالی لبنان سے مشتبہ وکیل) کو ایک خط لکھ دیا گیا ہے۔

عدالتی ذریعہ نے تصدیق کی کہ "نابالغ متاثرین کے خاندانوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کو معلوم ہے کہ ان کے بچوں کے ساتھ کیا ہوا ہے"۔

یہ قابل ذکر ہے کہ "ٹک ٹاکرز" گینگ کا معاملہ کچھ دن پہلے اس وقت سامنے آیا جب داخلی سکیورٹی فورسز نے اعلان کیا تھا کہ متعدد نابالغوں نے پبلک پراسیکیوشن کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ ان میں سے ایک کے رکن نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اسے منشیات دی گئی اوراس کے ساتھ زیادتی کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔

اس وقت بیروت، کوہ لبنان اور شمالی لبنان میں 6 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن کا تعلق ٹک ٹاک گینگ سے ہے ان پر تین شامی، ترک اور لبنانی لڑکوں کے ساتھ زیادتی کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں