نیتن یاھو حکومت نے رفح میں مصنوعی فتح حاصل کرنا مناسب سمجھا: اولمرٹ

واشنگٹن نیتن یاہو کی مہم جوئی کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے: سابق اسرائیلی وزیر اعظم کا ’’ العربیہ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل میں اندرونی تنازعات کے تناظر میں سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو رفح شہر پر حملے کے ذریعے ایک خیالی فتح کی تلاش میں ہیں۔ العربیہ اور الحادث چینلز کو انٹرویو دیتے ہوئے اولمرٹ نے کہا کہ رفح میں آپریشن حماس اور فلسطینی دھڑوں کے پاس یرغمالیوں کی بازیابی نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمیں یرغمالیوں کی بازیابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین نہیں ہے کہ رفح پر حملے سے قیدیوں کی بازیابی کا ہمارا مقصد حاصل ہو جائے گا، آخر کار رفح میں یہ مصنوعی فتح ہمیں تمام قیدیوں سے محروم کر دے گی۔ صرف فوجی کارروائی یرغمالیوں کی بازیابی کا باعث نہیں بنے گی۔

نیتن یاہو کی پالیسی کے خلاف اسرائیل میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ ان مظاہروں کا اسرائیلی حکومت کے طرز عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن ہم حکومت کو ایسے کاموں، جو اسرائیل کے مفادات کو پورا نہیں کر رہے، سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف رائے عامہ کو متحرک کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ قبل از وقت انتخابات کرائے جائیں اور حکومت کو تبدیل کیا جاسکے۔

تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کے متعلق سابق اسرائیلی وزیر اعظم اولمرٹ نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعاون بہت مضبوط ہے لیکن واشنگٹن نیتن یاہو کی مہم جوئی کی حمایت کرنے اور ان کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ بات امریکی ہتھیاروں کی اسرائیل کو ترسیل کو ملتوی کئے جانے سے بھی واضح ہے۔

اولمرٹ نے مزید کہا کہ واشنگٹن حماس کی شرکت کے بغیر ایک ایسا سیاسی عمل شروع کرنا چاہتا ہے جو دیرپا امن کی طرف لے جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطینی زمینوں پر قبضہ جاری نہیں رکھنا چاہتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں