اسرائیل کی آبادی 10 ملین کے قریب پہنچ، مگر اس میں عرب آبادی کی تعداد کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات نے اسرائیل میں رہنے والے لوگوں کی تعداد کے اعداد و شمار شائع کیے جو کہ 9.9 ملین تک پہنچ گئے جن میں 7,247,000 یہودی ہیں جن کی کل تعداد آبادی کا 73.2 فی صد ہے۔اس کے علاوہ 2,089,000 عرب ہیں جو کل آبادی کا 21 فی صد اور 5.7 فی صد دیگر اقوام شامل ہیں۔ جبکہ گزشتہ سال سے آبادی میں تقریباً 1 لاکھ 89 ہزار (1.9%) کا اضافہ ہوا ہے۔

سنٹرل بیورو آف سٹیٹسٹکس نے بتایا ک "گذشتہ سال 2 مئی سے 196,000 بچے پیدا ہوئے اور 37,000 نئے تارکین وطن اسرائیل میں آباد ہوئے اور موجودہ شرح نمو کے مطابق اگلے سال مئی میں اسرائیل کی آبادی 10 ملین سے زیادہ ہو جائے گی۔

محکمہ نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل بیشترآبادی نوجوان ہے ان میں سے تقریباً 28 فی صد کی عمریں 14 سال سے کم ہیں جب کہ صرف 12فی صد اسرائیلی 60 سال یا اس سے زیادہ ہیں۔ محکمہ بتاتا ہے کہ 1948ء کے بعد سے 3.4 ملین تارکین وطن پہنچے، جن میں سے 1.6 ملین یا تقریباً نصف، 1990 سے شروع ہو کر آباد ہوئے۔ 2022 کے آخر تک، دنیا کی کل یہودی آبادی کا تقریباً 45 اسرائیل میں رہتا ہے۔

اگر ترقی اپنے موجودہ رجحان میں جاری رہی تو اسرائیل کی آبادی 2030 میں تقریباً 11.1 ملین اور 2040 میں 13.2 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ بھی توقع ہے کہ 2048 میں یہ 15 ملین سے زیادہ افراد تک پہنچ جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں