اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے رفح آپریشن میں "نپی تلی توسیع" کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعہ کو ایگزیاس نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے جمعرات کی رات ہونے والی ووٹنگ میں رفح میں اسرائیلی افواج کی کارروائی میں "نپی تلی توسیع" کی منظوری دے دی حالانکہ اس نے اپنے مذاکرات کاروں کو یرغمالیوں کے لیے معاہدہ طے کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

ایگزیاس نے کہا کہ اس کے دو ذرائع نے بتایا کہ توسیع نے جو بائیڈن کی سرخ لکیر عبور نہیں کی جبکہ تیسرے نے کہا کہ اسے امریکی صدر کی مقرر کردہ لکیر کی خلاف ورزی کہا جا سکتا ہے کیونکہ وہ کچھ امریکی فوجی امداد روک رہے ہیں۔

وسیع پیمانے پر بین الاقوامی مخالفت کے باوجود اسرائیلی فوجی منگل کو رفح کے مشرقی سیکٹر میں داخل ہوئے اور کہا کہ وہ مزاحمت کاروں کا تعاقب کر رہے تھے۔

القاہرہ نیوز کے مطابق اسرائیل اور حماس کی مذاکراتی ٹیمیں گفتگو کے بعد جمعرات کو قاہرہ سے روانہ ہو گئیں جسے مصر نے غزہ میں جنگ بندی کی شرائط پر بالواسطہ مذاکرات کا "دو روزہ دور" کہا۔

مصری وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مصری وزیرِ خارجہ سامح شکری اور امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک فون کال کے دوران اس بات کی اہمیت پر اتفاق کیا کہ فریقین پر لچک کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا جائے اور جنگ بندی معاہدہ طے کرنے کے لیے تمام ضروری کوششیں کی جائیں۔

حماس نے کہا کہ اس کا وفد قطر کے لیے روانہ ہو گیا تھا جو گروپ کی سیاسی قیادت کا گھر ہے۔

حماس نے کہا، "عملاً قابض (اسرائیل) نے ثالثین کی پیش کردہ تجویز کو مسترد کر دیا اور کئی مرکزی مسائل کے حوالے سے اس پر اعتراضات اٹھائے۔" گروپ نے مزید کہا کہ وہ اس تجویز پر قائم ہے۔

"نتیجتاً فیصلہ اب مکمل طور پر قابض حکومت کے ہاتھ میں ہے۔"

حماس نے کہا کہ ثالث کی ایک تجویز جس پر اس نے اتفاق کیا، اس میں "مستقل جنگ بندی" کے مقصد کے ساتھ غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلاء، جنگ سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی اور اسرائیل میں زیرِ حراست فلسطینی قیدیوں کے عوض حماس کے پاس اسیر یرغمالیوں کا تبادلہ شامل ہے۔

تاہم جمعے کے روز دی ٹائمز آف اسرائیل میں لازار برمن نے ایک تجزیے میں کہا، "حماس اب بھی بہت زندہ ہے اور اس کی طاقت باقی ہے۔"

برمن نے لکھا، "حماس کو ایک مربوط لڑاکا قوت کے طور پر کچلنے کی فوجی کوشش نامکمل ہے اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ کبھی مکمل ہو سکے گی۔"

سی این این کے جس انٹرویو میں بائیڈن نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی افواج "رفح میں داخل ہوئیں تو بعض ہتھیاروں کی فراہمی روک دیں گے، اس میں انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکی بم پہلے ہی غزہ میں شہریوں کو مارنے کے لیے استعمال ہو چکے ہیں۔

ان کی انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے 3,500 بموں کی ترسیل روک دی تھی کیونکہ اسرائیل رفح پر حملہ کرنے کے لیے تیار لگتا تھا۔

رفح میں اسرائیل کی کارروائی کے بارے میں سوال پر بائیڈن نے کہا، "وہ آبادی کے مراکز میں نہیں گئے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں