سی آئی اے ڈائریکٹر قاہرہ سےواپس روانہ، غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کا انجام کیا ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قاہرہ میں بالواسطہ مذاکرات کے مشکل دنوں کے بعد ایک طرف حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے درمیان اور دوسری طرف اسرائیل، مصری، امریکی اور قطری ثالثی سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات کے جلو میں "سی آئی اے" کے ڈائریکٹر ولیم برنز آج جمعہ کو قاہرہ سے روانہ ہوگئے ہیں۔

دریں اثنا مصری اور امریکی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقین کو قریب لانے کے لیے پس پردہ متعلقہ افراد کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

جب کہ مصری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ سامح شکری نے اپنے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن کو ایک فون کال میں یقین دہانی کرائی ہے کہ "جلد از جلد" تباہ شدہ فلسطینی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے مذاکرات کا ایک بالواسطہ دور قاہرہ کی میزبانی میں ہوگا۔

لچک دکھانے پر زور

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ دونوں وزراء نے غزہ مذاکرات میں فریقین پر لچک دکھانے اور جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے ضروری کوششیں کرنے کی اہمیت پر اتفاق کیا تاکہ انسانی المیے کو ختم کرکرتے ہوئے غزہ کو مکمل اور پائیدار ترسیل کی اجازت دی جا سکے۔

دونوں وزراء نے غزہ میں ایک جامع جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے فریقین پر زور دینے کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی
غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی

مرکزی مسائل پر اعتراضات

یہ پیش رفت حماس کی جانب سے جاری اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے جس میں حماس کے کہا ہے کہ جنگ بندی کی گیند اب اسرائیل کے کورٹ میں ہے۔

اس نے کہا کہ تل ابیب نے "ثالثوں کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کو مسترد کر دیا اور کئی مرکزی مسائل پر اس پر اعتراضات اٹھائے"۔

دریں اثنا ایک سینیراسرائیلی اہلکار نے کہا کہ قاہرہ میں ثالثوں کے سامنے پیش ہونے والے اسرائیلی فریق نے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کےحوالے سے حماس کی تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

"انتہائی مشکل"

دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے وضاحت کی کہ ان کا ملک حماس کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز میں ترامیم کے بارے میں اسرائیل کے ساتھ اب بھی بات کر رہا ہے۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے مزید تفصیلات بتائے بغیر زور دیا کہ "کام بہت مشکل ہے"۔

اگرچہ گذشتہ منگل سے قاہرہ میں نظر آنے والی بات چیت میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ بننے والے نکات کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن بتایا گیا ہے کہ حماس نے مستقل جنگ بندی کی تجویز دی ہے جب کہ اسرائیلی وفد نے درخواست کی کہ اس اصطلاح کو پائیدار جنگ بندی سے بدل دیا جائے۔ ، اگرچہ دونوں تاثرات کے درمیان فرق واضح نہیں ہے۔

حماس پوری غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کےمطالبے پرکاربند ہے جسے اسرائیلی فریق ماضی میں بارہا مسترد کرچکا ہے اور کرتا آرہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں