غزہ جنگ : اکیلے کھڑا ہونا پڑا تو اکیلے کھڑے ہوں گے، نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کئی ماہ سے امریکی مشاورت ، رہنمائی اور مکمل مدد کے ساتھ غزہ میں جنگ کرنے والے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے آٹھویں ماہ رفح میں جنگی شروعات کرنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ ' اگر ہمیں اکیلے کھڑا ہونا پڑا تو ہم اکیلے کھڑے ہوجائیں گے۔' وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس امر کا اظہار جمعرات کے روز کیا ہے۔

ایک روز قبل امریکی صدر جوبایڈن نے' سی این این ' کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیل کے رفح میں جنگی طریقہ کار کے بارے میں قدرے عدم اطیمنان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا ' امریکہ اس صورت میں اسرائیل کو کچھ اسلحے کی فراہمی روک سکتا ہے'.

اس پر سب سے پہلے اسرائیلی فوج کے ترجمان رئیر ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے ایک اسرائیلی ریڈیو کے ذریعے رد عمل دیا اور اب نیتن یاہو نے ایک جذباتی انداز میں تقریر کی ہے۔

مبصرین اسرائیل اور امریکہ کے درمیان اس صورت حال پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔ ایک مشترک تبصرہ یہ جاری ہے کہ آٹھ ماہ کو چھو چکی اس غزہ جنگ میں امریکہ نے جس قدر اسرائیل کی مدد کی ہے اس سے لگتا رہا یہ اسرائیل کی نہیں امریکہ کی اپنی جنگ ہے۔ جس میں پورا یورپ اس کے ساتھ رہا ہے ۔ اس لیے اب کچھ اسلحہ یا متعین قسم کے ' ان گائیڈڈ ' بموں کی فراہمی روکنے سے رفح میں اسرائیلی جنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کیونکہ ماہ اپریل میں 13 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا امریکی پیکج بھی تو اسی اسرائیل کی غزہ جنگ میں کام آتا رہے گا۔

البتہ امریکی صدر کو اپنی مشکل انتخابی مہم میں اور اسرائیل کو مشرق وسطی میں اپنی اپنی ضرورت کے لیے' فیس سیونگ ' مل جائے گی۔ کیونکہ جوبائیڈن کی مہم اسرائیل نواز پالیسی سے بھی بہت خطرے میں ہو سکتی ہے اور حماس کے سات اکتوبر کے تباہ کن حملے سے لے کر اب تک مزاحمت کرنے پر اسرائیلی جنگی اہلیت پر سوال اٹھ چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اسی پس منظر میں جذباتی انداز کی تقریر کی ہے اور امریکی صدر کا یا ان کے انٹرویو کا ذکر کیے بغیر زور دے کر کہا'
ہم آج اس وقت سے زیادہ مضبوط ہیں جب ہم نے 1948 میں کئی ملکوں کی مخالفت کی تھی اور پھر بھی جنگ جیتی تھی۔' وہ عرب یہود جنگ کا ذکر کر رہے تھے اور عرب دنیا کے مقابل اپنی موجودہ قوت کا اظہار کر رہے تھے۔

نیتن یاہو نے کہا ' آج ہم زیادہ متحد ہیں اور زیادہ واضح انداز سے موجود ہیں تاکہ اپنے دشمنوں کو شکست دے سکیں۔ وہ دشمن جو ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں۔'

اسرائیلی وزیر اعظم نے جنگ کرنے کے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا اور کہا ' ہم اپنے ناخنوں سے بھی لڑیں گے، اگرچہ ہمارے پاس ایسا بہت کچھ موجود ہے جو ناخنوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم اپنے اسی جذبے اور اتحاد کی بنیاد پر خدا کی مدد سے لڑیں گے اور جیتیں گے۔'

مبصیرین کو اس امر پر شبہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے کچھ بموں یا اسلحے کی سپلائی روکنے کا اسرائیل کی غزہ جنگ پر اثر پڑے گا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے جمعرات کے روز کہا 'فوج کے پاس رفح میں جنگی مشن کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے ساری غزہ جنگ میں شروع سے لے کر اب تک جس طرح ہماری ہر ممکن مدد کی ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔'

خیال رہے اب تک غزہ کی جنگ میں اسرائیلی فوج نے 34904 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے اور سات اکتوبر سے مسلسل بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایف 35 جنگی طیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں کا استعمال اور سرپرستی و تحفظ کے لیے شروع میں ہی دو امریکی طیارہ بردار جہازوں کا اسرائیل سے جڑے سمندر میں پہنچ جانا اسی پس منظر میں ممکن ہوا تھا ۔

ایڈمرل ہگاری نے مزید کہا ' امریکہ کے اپنے مفادات ہیں ہمیں اس کے مفادات کا بھی احساس ہے۔ تاہم ہمارے اپنے مفادات ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں