اردن میں معذور بچے کو تھپڑ مارنے پر بحالی مرکز بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اردن کی شمالی گورنری اربد میں ایک بحالی مرکزمیں ٹیچر کی طرف سے ایک بچے کو تھپڑ مارے جانے کے بعد حکام نے مرکز کو بند کردیا ہے۔

اردنی حکام نے اس مرکز کو بند کرنے کا اعلان کیا جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے میڈیا ترجمان، عامر السرتاوی نے کہا کہ فیملی پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے کارکنوں نے مقامی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو کی تحقیقات شروع کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ تھپڑ مارنے والے ٹیچر سے تفتیش کر رہی ہے اور اسے عدلیہ کے حوالے کر دیا ہے۔

اس نے تصدیق کی کہ معلومات اکٹھی کی گئیں اور بچے کی شناخت کا تعین کیا گیا۔ پھر اسے اور اس کے سرپرست کو فیملی پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ میں طلب کیا گیا۔

عوامی حلقوں میں غصہ

قابل ذکر ہے کہ مذکورہ مرکز نے غلطی سے ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنے سے پہلے اپنے سوشل میڈیا پیج پر پوسٹ کر دیا تھا۔

اس کلپ میں ایک معذوربچے کے ساتھ بدسلوکی کی گئی جب وہ ایک حرف کا تلفظ کرنے میں ناکام رہا اور اس کے منہ سے تھوک دیا۔ اس سے ٹیچر کو غصہ آیا اور اس نے اسے فوراً تھپڑ دے مارا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی عوامی حلقوں میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں