اسرائیلی فوج کا ٹینکوں سے مشرقی رفح کا محاصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج نے ٹینکوں کی مدد سے مشرقی رفح کا محاصرہ کر لیا۔ شہر کے ایک حصے کا ٹینکوں سے محاصرہ کر کے دوسرے سے اسے کاٹ دیا ہے، شہر کے وسط سے گزرنے والی اہم سڑک صلاح الدین روڈ بھی فوجی نگرانی میں آگئی ہے۔

رفح کے شہریوں کے مطابق جمعہ کے روز انہیں شمال مشرقی حصے میں دھماکوں اور ٹینکوں سے کی جانے والی گولہ باری کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کا حماس اور اسلامی جہاد گروپ کے جنگجووں سے جگہ جگہ مقابلہ جاری رہا اور جھڑپیں چلتی رہیں۔

حماس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے اسرائیلی ٹینکوں کو ایک مسجد کے قریب نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائی شہر کے مشرق میں ہوئی ہے۔ شہر کے مشرقی حصے میں اسرائیلی ٹینک پر حماس کے عسکری ونگ کا حملہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شہر میں اپنی رسائی کر لی ہے اور اسرائیلی فوج شہر کے اندر تک جا پہنچی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے رفح کے شہریوں سے کہا ہے کہ شہر کا مشرقی حصہ رہنے کے لیے ٹھیک نہیں ہے اس لیے یہاں سے فوری نکل جائیں۔ اسرائیلی فوج نے جبری طور پر دسیوں ہزار فلسطینیوں کو اس شہری حصے سے نکال دیا ہے۔ اب یہ لوگ شہر سے باہر اپنے لیے پناہ کی تلاش میں ہیں۔

واضح رہے رفح شہر میں لگ بھگ پندرہ لاکھ افراد اس وقت پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جنہیں اسرائیلی فوج نے پہلے غزہ سے دھکیل کر رفح میں پناہ لینے کے لیے کہا تھا۔ اب انہیں یہاں سے بھی نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ جیتنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ رفح سے بھی حماس کے ہزاروں جنگجووں کو اکھاڑ پھینکے۔ تاہم اسرائیلی فوج کو یہ بھی خوف ہے کہ جن فلسطینیوں کو اس نے محض چند ماہ میں دوسری بار نقل مکانی پر مجبور کیا ہے ان کی طرف سے بھی تنگ آمد بجنگ آمد کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں عام فلسطینی بھی اسرائیلی فوج کے خلاف سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بعض دوسرے فریق بھی سمجھتے ہیں کہ اس صورت میں انسانی جانوں کا نقصان کہیں زیادہ ہو گا۔ اسی لیے وہ اسرائیلی فوج کو رفح پر حملے سے روک رہے تھے۔

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کا مقابلہ کرے گی۔ خیال رہے حماس نے اسی پس منظر میں چند روز قبل کہا تھا کہ ' رفح اسرائیلی فوج کے لیے پکنک پوائنٹ ثابت نہیں ہو گا۔'

رفح کے کے علاقے تل السلطان کے رہنے والے پچاس سالہ ابو حسن نے' روئٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہا ' رفح محفوط نہیں ہے، پورے رفح میں کل سے ہر جگہ ٹینکوں کی گولہ باری جاری ہے۔ ' خیال رہے یہ تل السلطان کا علاقے مغربی رفح میں واقع ہے۔ ابوحسن نے کہا 'میں رفح سے نکلنا چاہتا ہوں مگر میں کسی نئی جگہ پر خیمہ لگانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اس کے لیے مجھے کم از کم خیمہ خریدنے کے لیے 2000 اسرائیلی شیکلز کی ضرورت ہے جو میرے پاس نہیں ہیں۔ '

ابو حسن نے مزید کہا ' رفح کے مختلف حصوں سے فلسطینیوں کے نکلنے کی تعداد تیز ہو رہی ہے، حتیٰ کہ مغربی رفح سے بھی لوگ نکلنا شروع ہو گئے ہیں۔ کیونکہ اسرایلی گولے ہر طرف آرہے ہیں۔'

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے مشرقی رفح میں کئی زمینی سرنگوں کا پتہ چلایا ہے۔ فوجیوں نے حماس کے جنگجووں کو نشانہ بنا کر متعدد کو ہلاک کر دیا ہے۔' اسرائیلی بمباری بھی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کے بقول بمبار طیاروں سے ان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جن سے فوج کے خلاف راکٹ چلائے گئے تھے۔

واضح رہے اسرائیلی ٹینکوں نے پہلے ہی مشرقی رفح کے گرد گھیرا ڈال کر اس حصے کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ رفح کی راہداری بھی اسرائیلی فوج نے اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ جبکہ جمعہ کے روز صلاح الدین روڈ کی طرف پیش قدمی کی ہے۔ اس علاقے کو ' ریڈ زون ' کا نام دے کر شہریوں کو باہر نکلنے کا کہہ رہی ہے۔

دو روز قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر کے ایک انٹرویو کے بعد انتباہ کیا ہے کہ وہ آخری حد تک لڑیں گے۔ حتیٰ کہ انہیں اپنی انگلیوں کے ناخنوں سے بھی لڑنا پڑا تو وہ لڑیں گے۔ '

ادھر قاہرہ میں جنگ بندی کے مذاکرات سے بھی کوئی مثبت خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ رفح میں آنے والے دن فریقین کے لیے کافی سخت ہوں گے۔ لیکن سب سے زیادہ نقصان عام فلسطینی شہریوں کو سہنا پڑے گا جو چند ماہ کے دوران دوسری بار نقل مکانی پر مجبور کیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں