حماس رہ نما السنوار خان یونس کی سرنگوں میں ہوسکتے ہیں: اسرائیلی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ْایک طرف اسرائیل نے حماس کی مفرور قیادت اور باقیات کو ختم کرنے کے لیے رفح میں فوجی کارروائی شروع کی ہے اور دوسری طرف اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے انتہائی مطلوب لیڈر یحییٰ السنوار غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کی زیر زمین سرنگوں میں ہوسکتے ہیں۔

یہ متضاد بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دوسری طرف اسرائیل نے رفح میں حماس کے تعاقب میں تنظیم کے آخری ٹھکانے کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

دو باخبر اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ السنوار جسے تل ابیب 7 اکتوبر کے حملے کا ماسٹر مائنڈ سمجھتا ہے رفح میں ہیں بلکہ خان یونس میں ہوسکتا ہے۔

تاہم انہوں نے اس کے ٹھکانے کا قطعی تعین کرنے سے گریز کیا اور صرف امکان پر بات کی۔ حکام نے کہا السنوار خان یونس کے زیرِ انتظام سرنگوں میں سے ایک میں تھا، جو غزہ کی پٹی جنوب میں رفح سے تقریباً پانچ میل شمال میں ہے۔ اس کے بعد اس کا پتا نہیں کہ آیا وہ اب بھی ادھر ہی ہے یا نہیں۔

ایک تیسرے اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ السنوار اب بھی غزہ میں ہے۔

ایک اہلکار نےٓ کہا کہ رفح میں حماس کے بہت سے جنگجو حالیہ ہفتوں میں حملے کی اسرائیلی دھمکیوں میں اضافے کے ساتھ شمال کی طرف بھاگ گئے تھے۔

گذشتہ فروری میں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں حماس کے رہ نما کی جائے پیدائش خان یونس پر حملوں پر توجہ مرکوز کیے جانے کے ساتھ ہی گزشتہ فروری میں اسرائیلی قیاس آرائیاں کی گئی تھیں کہ سنوار شاید رفح منتقل ہو گیا ہے۔

یہ توقعات اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی فوج نے گذشتہ پیر سے مشرقی رفح کے کئی محلوں کو خالی کرا دیا اور پھر رفح کراسنگ کے فلسطینی اطراف کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اسرائیلی فوج نے رفح میں کارروائی کا دائرہ مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریبا ڈیڑھ لاکھ فلسطینی رفح سے خان یونس اور المواسی کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں