حماس غزہ میں جنگ بندی کے لیے مزید لچک کا مظاہرہ کرے: تحریک فتح

غزہ میں جنگ جاری رہنے کی وجہ سے فلسطینی عوام میں سب کے خلاف غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ٓفلسطینی تحریک فتح نے حماس اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید لچک کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے امکانات کم ہونے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام میں سب کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو چاہیے کہ وہ جنگ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں موجود خلاٰء کو پر کرنے کے لیے اپنے سیاسی نقطہ نظرمیں لچک پیدا کرے۔
ٓ
انہوں نے ہفتے کے روز مقامی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ تحریک فتح امید کرتی ہے کہ "حماس ایک سیاسی، عسکری اور تنظیمی نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے پہل کرے گی تاکہ 1967 کی سرحدوں اور اقوام متحدہ کی فلسطینی ریاست سے متعلق مشترکہ قراردادوں پر فلسطینی ریاست کی تشکیل کی راہ ہموار ہوسکے۔

ٓ
قومی اتفاق رائے کی ضرورت

انہوں نے فلسطینی عوام کی کامیابیوں کے تحفظ کی بنیاد پر تمام فلسطینی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ جبریل رجوب نے کہا کہ تمام فلسطینی قوتوں کو تنظیم آزادی فلسطین کے جھنڈے تلے جمع ہو کراس کی طاقت کو مزید بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اتفاق رائے میں "پی ایل او" کے اندر اور باہر سب کو شامل کرنا چاہیے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تحریک فتح تین محاذوں پر جنگ لڑ رہی ہے۔ پہلی جنگ رفح سے جنین تک ہے اور دوسری فلسطینی قومی اتھارٹی، مشنز، کمیونٹیز اور آزاد لوگوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے اور تیسری جنگ فلسطینی قوتوں میں تقسیم کو ختم کرکے وسیع ترقومی اتحاد کی تشکیل ہے۔

آئینی قیادت کے تزویراتی تصور کا جائزہ

تحریک فتح کے رہ نما جبریل رجوب نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر سے پیدا ہونے والے حالات فلسطینی عوام کی آئینی قیادت کے تزویراتی تصور کا جائزہ لینے کے متقاضی ہیں، جس کا عنوان ’’فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن‘‘ ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں فلسطینی قوتوں حماس اور فتح کے درمیان 7 اکتوبر کے بعد غزہ جنگ کے حوالے سے سخت اختلافات سامنے آئے تھے، جب حماس نے فلسطینی اتھارٹی پر تنقید کا آغاز کرتے ہوئے اس پر الزام لگایا تھا کہ وہ گزشتہ اپریل کے آغاز میں امدادی ٹرکوں کو محفوظ بنانے کے بہانے شمالی غزہ کی پٹی میں سکیورٹی اہلکاروں کو بھیج رہی ہے۔

اتھارٹی کی طرف سے الزامات کی تردید کی گئی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے ان الزامات کو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے عرب ممالک کی طرف سے عوامی اور سرکاری طور پر فراہم کی جانے والی ٓ کوششوں سے توجہ ہٹانے کے مترادف قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں