عرب ممالک نے اسرائیلی شرکت کے ساتھ غزہ کا انتظام سنھبالنے کی تجویز مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رفح پر حملے کی دھمکیوں اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر اتفاق کے لیے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد اسرائیل نے ایک تجویز پیش کی جس سے کئی عرب ممالک سخت ناراض ہوئے ہیں۔

ذرائع نے ہفتے کے روز العربیہ/الحدث کو اطلاع دی کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے انتظامات کے حوالے سے عرب ممالک اور اسرائیل کے مشترکہ کنٹرول کی تجویز پیش کی جس پر مصر، قطر اور دیگر عرب ممالک نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

ثالث ممالک نے امریکہ کو جنگ کے بعد اسرائیل کے غزہ کا انتظام جاری رکھنے کے موقف کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرنے سے آگاہ کیا۔

کراسنگ کھولنا

قاہرہ نے غزہ میں ہزاروں فلسطینیوں کے لیے اہم کراسنگ کی بندش پر تنقید کرتے ہوئے امداد پہنچانے کے لیے رفح کراسنگ کو کھولنے کا بھی مطالبہ کیا۔

اس نے فلسطینیوں کی طرف سے کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا جب اسرائیلی افواج نے اس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد امداد کا داخلہ بند کردیا ہے۔


اس کے علاوہ مصر نے اسرائیل کو سخت الفاظ میں پیغام بھیجا جس میں کراسنگ کھولنے سے پہلے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو مسترد کردیا اور ساتھ ہی اس نے امدادی قافلوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے داخل ہونے کی اجازت دینے پر زور دیا۔

رواں ماہ کی چھ تاریخ کو اسرائیلی فورسز نے مشرقی رفح کے محلوں کے رہائشیوں کو انخلا کے لیے خبردار کرنا شروع کیا۔ پھر اگلے دن پیش قدمی کی اور کراسنگ کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اسرائیلی فوج نے رفح میں اپنی کارروائی کا دائرہ مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہےجس پر اقوام متحدہ ، دیگر عالمی ادارے اور عالمی برادری نے خبردار کرتےہوئے کہا ہے کہ رفح میں اسرائیلی فوج کی وسیع پیمانے پر کی گئی کارروائی خوفناک اور تباہ کن ہوگی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کے جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں