ہارورڈ کو فلسطینی حامی مظاہرین کا سامنا، ایم آئی ٹی اور پین نے کیمپ منتشر کر دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ہارورڈ یونیورسٹی نے ایک بار پھر فلسطینی حامی مظاہرین کو معطل کرنے کی دھمکی دی ہے اگر وہ کیمپس میں احتجاجی کیمپ نہ چھوڑیں۔ اس تعطل میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس سے سکول ان چند اشرافیہ کالجوں میں سے ایک کے طور پر رہ گیا ہے جنہوں نے مظاہرین کو زبردستی نہیں ہٹایا۔

آئیوی لیگ یونیورسٹی نے اب تک کیمپ خالی کرنے کے لیے پولیس طلب کرنے کی مزاحمت کی ہے۔ اس اقدام کے لیے صدر ایلن گاربر نے کہا ہے کہ اس کے لیے "بہت ہی بڑی وجہ" کی ضرورت ہوگی۔

یہ دوسرے سکولوں کے برعکس ہے جنہوں نے آغاز کی تقریبات سے پہلے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے جو فارغ التحصیل طلباء، والدین اور طاقتور عطیہ دہندگان کے لیے ایک شاندار تقریب ہوتی ہے۔

گذشتہ ہفتے کولمبیا یونیورسٹی میں پولیس کی کارروائی کے بعد میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا نے جمعے کے اوائل میں اسی طرح کے کیمپوں کو ختم کیا جس کے نتیجے میں دونوں سکولوں میں 40 سے زیادہ گرفتاریاں ہوئیں۔

دیگر مطالبات کے علاوہ مظاہرین چاہتے ہیں کہ یونیورسٹیاں اسرائیل سے اپنے مالی اور تعلیمی تعلقات منقطع کر دیں جو ایسے اقدامات ہیں جن کا مقصد غزہ میں اس کی فوجی کارروائی روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

جبکہ براؤن یونیورسٹی اور نارتھ ویسٹرن جیسے بعض سکول مظاہرین کے ساتھ کیمپوں کے خاتمے کے بدلے اسرائیل میں سرمایہ کاری ختم کرنے پر بات چیت کرنے پر متفق ہیں، ہارورڈ، کولمبیا اور پین جیسے دیگر امیر اداروں نے اس طرح کے مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔ گاربر نے کہا ہے کہ وہ سرمایہ کاری ختم کرنے کے مطالبات کی "پذیرائی نہیں کریں گے"۔

رابرٹ کرافٹ سے لے کر مارک روون اور بیری سٹرن لچ تک کے امیر عطیہ دہندگان نے سکولوں کے احتجاج سے نمٹنے کے طریقے پر شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

کئی یونیورسٹی منتظمین نے طویل عرصے سے اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ، ڈائیویسٹمنٹ، سینکشنز (بائیکاٹ، سرمایہ کاری اور مالی روابط ختم کرنا، پابندیاں) یا بی ڈی ایس کی تحریک کو یہود دشمنی کے طور پر دیکھا ہے کیونکہ یہ یہودی ریاست کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگاتی ہے اور ایک ملک کی پالیسیوں کو مسترد کرتی ہے۔

سکولوں نے بتایا کہ مظاہرین نے جمعہ کی صبح پین اور ایم آئی ٹی میں پولیس کی کارروائی کے خلاف مزاحمت نہیں کی۔

پین نے کہا کہ اس کے افسران اور فلاڈیلفیا پولیس ڈیپارٹمنٹ نے 33 مظاہرین کو خلاف ورزی اور مداخلتِ بے جا کے الزام میں گرفتار کیا۔ ایم آئی ٹی پولیس نے 10 مظاہرین کو گرفتار کیا۔ صدر سیلی کورن بلوتھ نے کہا کہ ان کے پاس "ہمارے کیمپس کے بالکل مرکز میں اس طرح کے شدید خطرے کے حامل نقطۂ اشتعال کو ہٹانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔"

ہارورڈ اپنے یارڈ میں آئندہ کیمپس تقریبات کے لیے تیاری کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں اس وقت کیمپ قائم ہے۔ ان میں 23 مئی کا مرکزی آغاز ایک ایسا ایونٹ ہے جس میں عموماً 30,000 سے زیادہ لوگ آتے ہیں۔

سکول کے ایک ترجمان نے جمعہ کو بتایا کہ مظاہرین کو غیرحاضری کی چھٹی پر رکھنے کا عمل آگے بڑھ رہا تھا۔

گاربر نے اس ہفتے کہا، معطل طلباء کو کیمپس یا ہارورڈ ہاؤسنگ میں اجازت نہیں ہوگی۔

ترجمان نے کہا، "ہارورڈ یارڈ کے اندر جاری احتجاجی کیمپ یونیورسٹی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری ہے جس سے سمسٹر کے اہم وقت میں تعلیمی ماحول میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے کیونکہ طلباء فائنل امتحان دے رہے ہیں اور آغاز کی تیاری کر رہے ہیں۔"

ہارورڈ جیوش ایلومنائی الائنس نے "ہارورڈ کی بے وقوفی" پر تنقید کی اور اپنے اراکین پر زور دیا کہ وہ سکول کی قیادت کی طرف سے "جرأت مندانہ اقدام کی حوصلہ افزائی کریں"۔ سابق طلباء کے گروپ نے کہا کہ کیمپ کو "اگر ضروری ہو تو طاقت کے ذریعے" فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے اور اس کے پیچھے موجود طلباء کو نکال دیا جائے۔

طلباء گروپ ہارورڈ آؤٹ آف اوکیپائیڈ پالیسٹائن نے جمعہ کے اوائل میں کہا کہ گاربر نے ایک تجویز مسترد کر دی جو احتجاجی کیمپ ختم کرنے کے بدلے میں "ہارورڈ کو شفافیت اور اخلاقی سرمایہ کاری پر آگے بڑھا" سکتی تھی۔

سکول کے ترجمان نے کہا کہ گاربر نے طلباء اور حصص مالکان کی ذمہ داری کمیٹی کے رکن کے درمیان ملاقات کا اہتمام کرنے کی پیشکش کی لیکن صرف اس صورت میں جب احتجاج رضاکارانہ طور پر ختم ہو جائے۔

ترجمان نے ایک بیان میں کہا، "صدر گاربر نے پیچیدہ مسائل بشمول اسرائیل اور حماس کے جاری تنازعے پر مدلل بحث کے لیے یونیورسٹی کا عزم واضح کیا ہے۔"

نیز ترجمان نے کہا، "تاہم جیسا کہ انہوں نے کہا، 'یہ مشکل اور اہم گفتگو شروع کرنے کے لیے تعلیمی ماحول اور ہارورڈ کے تعلیمی مشن میں مداخلت کی ضرورت یا جواز نہیں ہے۔'"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں