نیتن یاہو کا امارات کو غزہ کے انتظامی امور سنبھالنے کی دعوت پر ابوظبی کا سخت ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ کے انتظامی امور سنبھالنے کی دعوت کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ یہ مذمتی بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے شائع ہوا۔ بیان کے مطابق نیتن یاہو کے پاس امارات کو غزہ کی سول انتظامیہ کا حصہ بننے کا تقاضہ کرنے کا "کوئی جائز اختیار نہیں"۔

Advertisement

اماراتی وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اس امر کا ایک پھر اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات ایسے کسی بھی منصوبے کا حصہ بننے سے انکار کرتا ہے جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی موجودگی کو کور فراہم کرنا ہو۔

وزیر کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی "امیدوں اور امنگوں سے اہم آہنگ خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد متحدہ عرب امارات اُس فلسطینی حکومت کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ تیار ہو گا۔

اس ماہ کے شروع میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سفارت کار نے اسرائیلی حزبِ اختلاف کے مرکزی رہنما سے ملاقات کی کیونکہ رفح پر حملے کے خطرے کے ساتھ غزہ میں جنگ کی شدت بڑھ رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ شیخ عبداللہ اور لاپیڈ نے "غزہ کی پٹی میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران" پر تبادلۂ خیال کیا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر نے سات ماہ سے جاری بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے اور دو ریاستی حل کے لیے راستہ بنانے کی اہمیت کا حوالہ دیا جس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو گی۔

شیخ عبداللہ نے جنگ بندی کی اہمیت اور تنازعہ کو پورے خطے تک پھیلنے سے بچانے کے لئے ضروری طریقہ کار پر بھی بات کی۔ اماراتی عہدیدار نے بے گھر اور زخمی فلسطینیوں کو انسانی امداد فراہم کرنے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

اجلس کے بعد ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لاپڈ نے عبرانی زبان میں جاری پیغام میں کہا، یرغمالیوں کی رہائی "فوری" ہونی چاہیے اور "خطے کا کوئی بھی ملک اس معاہدے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، " اسرائیل کا مفاد متحدہ عرب امارات اور معتدل عرب ممالک کے ساتھ مل کر سیاسی اور اقتصادی تعاون پیدا کرنے میں ہے جو عالمی مسائل کا حل پیش کر سکے اور ہر قسم کے علاقائی خطرات سے نمٹ سکے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں