"دریا سے سمندر تک" کی اصطلاح سے 'فیس بک' کیوں پریشان ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حامی مظاہروں کی چنگاری کے بعد سے بہت سے لوگوں نے "دریا سے سمندر تک آزاد فلسطین" کا نعرہ دہرایا ہے۔

کئی عالمی دارالحکومتوں میں مظاہرین کی جانب سے کئی بینرز پر بھی اس طرح کے نعرے درج تھے۔

تاہم اس نعرے نے اسرائیل کو پریشان کر دیا جس کا دعویٰ تھا کہ اس نے اس نعرے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا حالانکہ بہت سے مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ تھا جس میں فلسطین کی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا اور فلسطینیوں کو ان زمینوں کو دوبارہ حاصل کرنے کا حق دیا گیا تھا جن پر اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد قبضہ جما رکھا ہے۔

"دریا سے سمندر تک" کا نعرہ فیس بک کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہے۔

"نفرت اور تشدد"

فیس بک کی نگران کمیٹی نے کچھ دن پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ اس بات کا مطالعہ کر رہی ہے کہ آیا اس جملے کو "نفرت انگیز" قرار دے یا نہیں۔

فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد کے فیصلوں پر اپیلوں پر نظر رکھنے والی آزاد کمیٹی نے کہا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ نعرہ پلیٹ فارمز کے قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ وہ 'فیس بک' پر تبصروں یا پوسٹس میں استعمال ہونے والے اس جملے سے متعلق تین کیسز سننے پر راضی ہوئے۔ یہ سب گذشتہ نومبر میں غزہ میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پرسات اکتوبر کو حماس کے اچانک حملے کے بعد کے ہیں۔

تینوں صورتوں میں سے ہر ایک میں فیس بک کے دیگر صارفین نے اس جملے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اس نے نفرت انگیز الفاظ یا تشدد پر اکسانے کے حوالے سے پلیٹ فارم کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

نیتن یاہو اور جغرافیہ!

یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خود اس کا استعمال اس وقت کیا جب انہوں نے گذشتہ جنوری میں انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس سے "ریاست اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو جائے گا"۔

"آئی24 نیوز" چینل کی رپورٹ کے مطابق لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس جغرافیائی سیاسی نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "مستقبل میں اسرائیل کو دریا سے لے کر سمندر تک پورے خطے کو کنٹرول کرنا چاہیے"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ جملہ اکثر خاص طور پر امریکہ میں مظاہروں کے دوران فلسطینیوں کے حق میں نعروں کے حصے کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔

اس اصطلاح سے مراد دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان جغرافیائی علاقہ ہے لیکن اس کے زیادہ دور معنی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان شدید بحث کو جنم دیتے ہیں۔

کچھ لوگ اسے محض ایک سیاسی بیان کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مطالبے سے منسلک ایک سیاسی نعرہ ہے۔ اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ یہ اس پورے خطے پر فلسطینی ریاست کی اجارہ داری کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مطلب اسرائیل کو نقشے سے مٹا دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں