برطانوی وزیر خارجہ کا رفح کے لیے اسرائیلی جنگی منصوبہ پر عدم اطمینان کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے رفح کے لیے اسرائیل کے جنگی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اسرائیل رفح میں موجود لاکھوں پناہ گزینوں کے لیے کوئی جامع منصوبہ اور حکمت عملی پیش نہیں کرتا ، اسرائیل کو رفح پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔

'رفح میں ایک جنگی حملہ کے لیے اسرائیل کے پاس واضح منصوبہ ہونا چاہیے۔ اسرائیل کے پاس رفح سے لوگوں کی بحفاظت نقل و حرکت کا پلان ہونا چاہیے۔ اسرائیل کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ انہیں خوراک اور دوائیاں مل رہی ہیں۔' انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی ٹی وی چینل سے انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

کیمرون نے کہا 'ہم نے ابھی تک اسرائیل کی طرف سے اس طرح کا کوئی منصوبہ نہیں دیکھا جس میں یہ سب چیزیں واضح اور صاف لکھی ہوئی موجود ہوں۔'

درین اثناء اسرائیل جس نے پچھلے پیر کے روز سے رفح پر اپنی زمینی حملے کے کیے ٹینکوں سے مشرقی رفح کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ نیز مشرقی و مغربی رفح کو ایک دوسرے سے کاٹ دینے کے ساتھ ساتھ رفح کی راہداری کو بند کر دیا ہے۔ اس نے اتوار کے روز غزہ پر مزید بمباری کی ہے۔

نیز یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران 3 لاکھ کے قریب فلسطینی پناہ گزین رفح سے نکل چکے ہیں۔ جب سے اسرائیلی فوج نے انہیں شہر چھوڑ جانے کے لیے کہا ہے۔

اسرائیلی فوج کو اسی ہفتے عالمی دباؤ کا بہت سامنا کرنا پڑا جب مختلف ملکوں اور اقوام متحدہ کی طرف سے یہ کہا گیا کہ وہ رفح کے مشرقی حصے پر حملہ آور ہونے سے باز رہے۔

اسرائیل کو چاہیے کہ وہ انسانی بنیادوں پر غزہ میں امداد کی ترسیل کے کیے مزید کوششیں کرے۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا 'میں نے بہت مرتبہ یہ بات کہی ہے کہ میں نے اس سلسکے میں ایسا مواد نہیں دیکھا کہ جس سے لگتا ہو کہ اسرائیل نے انسانی بنیادوں پر کام کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں۔ چند ایسے اشارے ہیں جن سے بہتری نظر آتی ہے لیکن اس سلسلے میں کام میں تیزی کی جتنی ضرورت ہے وہ کافی نہیں ہے۔'

خیال رہے 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے بےگھر ہونے والے فلسطینیوں میں سے تقریباً 15 لاکھ نے رفح میں پناہ لی تھی۔ اس وقت اسرائیلی فوج نے انہیں جبرا رفح منتقل ہونے کے لیے کہا تھا کہ رفح محفوظ ہے۔ لیکن اب پھر انہیں پناہ گزینوں کو رفح سے جبراً نکالا جا رہا ہے اور اب تک 3 لاکھ رفح سے منتقل ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں