رفح کے علاقے سے چار راکٹ داغے گئے، ایک روک لیا: اسرائیلی فوج کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے رو ز حماس کی طرف سے کیے گئے راکٹ حملوں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ راکٹ اسرائیلی اہداف پر رفح سے داغے گئے تھے۔ جن کا ہدف رفح سے جنوبی غزہ کی طرف کرم شالوم راہداری تھی۔

شالوم راہداری کو پچھلے اتوار سے ہی اسرائیلی فوج عاضی بندش کے نام پر بند کر چکی ہے۔ اس وقت کا جواز اسی نوعیت کے ایک حملے کو بنایا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز داغے گئے تازہ راکٹ حملوں کے بارے میں کہا ہے چار راکٹوں کی نشاندہی ہو گئی ہے کہ وہ رفح کے علاقے سے ہی داغے گئے تھے۔

تاہم فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا یے کہ 'ان راکٹوں میں سے ایک راکٹ کو اسرائیلی دفاعی نظام راستے میں ہی روکنے میں کامیاب رہا۔ البتہ تین راکٹ راستے میں نہ روکے جا سکے اور یہ کرم شالوم راہداری کے آس پاس کے علاقے میں جا گرے۔'

اسراییلی فوج کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے 'کوئی اسرائیلی ان تازہ راکٹ حملوں سے ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔' اس سے قبل کرم شالوم پر راکٹ حملے کے نتیجے میں چار فوجیوں کے مرنے کی اطلاع دی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ جمعہ کے روز بھی رفح کے اسی علاقے سے راکٹ داغا گیا تھا۔اس کا ہدف بھی وہی کرم شالوم کا وہ علاقہ تھا کہ جنوبی غزہ اور کرم شالوم کے درمیان کے علاقے کو نشانہ بنیا جائے۔۔جو ہفتے کے روز داغے گئے راکٹوں کا ہدف بھی رہا۔اسی کے بعد پچھلے اتوار کو اسرائیلی فوجی حکام نے شالوم راہداری بند کر دی تھی۔

ہفتے کے روز داغے گئے حملے اسرایجلی فوج کی طرف سے مشرقی رفح میں کرائے گئے جبری انخلا کے فوری بعد کی کارروائی ہیں۔ واضح رہے رفح اس وقت 14 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہے۔ جو سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ کی تباہی کے بعد غزہ کی پٹی سے نکل کر یہاں آئے ہیں ۔

انہیں اس وقت اسرائیلی فون رفح کی طرف پہنچنے کا حکم دے رہی تھی ۔ اب ایک بار پھر انہیں رفح سے بھی جبری طور پر نکالا جارہا ہے۔ جبکہ رفح راہداری کو بھی اسرائیلی فوج نے پہلے اپنے کنٹرول میں لیا اور اس کے بعد اس سے امدادی سامان کی فراہمی روک دی۔

پھر اس کے ساتھ ہی پیر کے روز حکم جاری کیا کہ مشرقی رفح کے رہائشی علاقہ خالی کر دیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑے حملے کے امکان کے پیش نظر کہا گیا ہے۔

تاہم ابھی اسرائیل نے وسیع پیمانے پر زمینی حملے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ البتہ رفح میں ٹینک داخل کر کے پورے مشرقی رفح کو محاصرے میں لے لیا اور باقی رفح سے کاٹ دیا ہے۔اس دوران رفح کی مصری سرحد سے جڑی ہوئی سب سے زیادہ فعال رہنے والی راہداری بھی بند کی جا چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں