رفح اور شالوم راہداریوں کو بند کر کے اسرائیل و امریکہ کا ایریز راہداری کھولنے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج امریکہ کے ساتھ مل کر غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر نئی امدادی راہداری کھولنے پر کام کر رہی ہے۔ واضح رہے یہ نئی راہداری ' ایریز ' کی راہداری ہے۔

اسرائیلی فوج کا یہ بیان اتوار کے روز سامنے آیا ہے۔ جس سے صاف امکان پیدا ہو رہا ہے کہ مستقل قریب میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان غزہ میں انسانی بنیادوں پر سرگرمیوں میں وسعت آئے گی۔ جو غزہ کے حتمی سیاسی مستقبل کے سلسلے میں بھی اہمیت کی حامل رہے گی۔

اسرائیلی فوج کے اتوار کے روز جاری کیے گئے بیان میں جس نئی راہداری کا بتایا گیا ہے یہ مغربی ایریز کی طرف سے شمالی غزہ میں کھلے گی ۔ جس کے نتیجے میں شمالی غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

واضح رہے شمالی غزہ ہی وہ علاقہ ہے جسے اسرائیلی فوج حماس کی قوت کے حوالے سے سب سے اہم سمجھتی ہے ۔ نیز اسی علاقے کی امداد ناکہ بندی پر اسرائیل کا فوکس سب سے زیادہ رہا ہے۔ اسی علاقے میں اسرائیلی جنگی کارروائیوں کی شدت رہی ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ ہی کے علاقے مشرقی جبالیہ میں اتوار کو صبح سویرے ٹینکوں کی ایک کمک بھیجی ہے۔ اس سے قبل رات بھر فضا اور زمین سے بمباری کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری رکھا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں 19 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

اس وقت مجموعی طور پر فلسطینیوں کی غزہ ہلاکتوں کی تعداد 35ہزار سے مجاوز ہے ۔ انسانی بحران کی سطح آسمان کو چھو رہی ہے۔ اسرائیل نے رفح راہداری اور کرم شالوم راہداری بھی بند کر رکھی ہے۔ البتہ نئی نئی راہداریاں کھولنے کی خبروں سے عالمی برادری کی اشک شوئی کا اہتمام جاری ہے۔

اسی پس منظر میں ایک بڑی پیش رفت غزہ سے متصل امریکہ کی نئی بندرگاہ کی تعمیر کا مکمل ہونا ہے۔ جس پر آج کل آپریشنل تیاریوں کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ تاکہ مؤثر اور ہمہ جہت حکمت عملی تشکیل پا سکے۔

اس امریکی بندرگاہ کی تعمیر کا اعلان امریکی صدر جوبائیڈن کے سٹیٹ آف یونین خطاب کے دوران کیا گیا تھا۔ بندرگاہ کے ابتدائی مقاصد میں غزہ کے لیے امدادی سرگرمیاں بتائی گئی تھیں۔ تاکہ اسرائیل کی طرف سے زمین کے راستے انسانی بنیادوں پر غزہ میں امداد کی ترسیل روکے جانے کے عمل کے دوران متبادل راستہ بھی موجود رہے۔

اس بندرگاہ کی تعمیر کے ناقدین نے اس فیصلے کو اسرائیل کے لیے سہولت کاری قرار دیا تھا کہ وہ زمینی راستے سے امدادی ترسیل جب تک چاہے روک سکے۔

اب ماہ مئی کے پہلے عشرے میں یہ بندرگاہ اور اس کے روٹ سے متعلق معاملات تقریباً مکمل ہو گئے ہیں۔ تاہم آپریشنل جزئیات کا معاملہ ابھی حتمی شکل نہیں پا سکا۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون کے 'بی بی سی' کے لیے تازہ انٹرویو میں یہ نشاندہی بھی ہو رہی ہے کہ ابھی کچھ بنیادی آپریشنل معاملات بھی تصفیہ طلب ہیں۔

ان کے انٹرویوز سے یہ جہت بھی سامنے آئی ہے کہ ان کا ملک اپنی فوج کو اس نئی امریکی بندرگاہ پر تعینات نہیں کرے گا۔ تاہم ان کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر ذمہ دار اگلے دنوں اسرائیلی حکام کے ساتھ تبادلہ خیال اور مشاورت کریں گے۔ البتہ اسی انٹرویو میں ڈیوڈ کیمرون نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ برطانوی فوج کے بجائے برطانیہ یہ کام اپنے (سول) کنٹریکٹرز کی مدد سے کر سکتا ہے۔

خیال رہے ماضی میں اسی انداز سے سول کنٹریکٹرز کی مدد لے کر امریکہ نے پاکستان، افغانستان اور عراق وغیرہ میں کئی مہمات انجام دے رکھی ہیں۔ امریکہ کے ان سول کنٹریکٹرز کو امریکہ اور اس سے باہر عام طور پر بلیک واٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تاہم امریکہ نے جس طرح اپنی فوج کو بروئے کار لاتے ہوئے غزہ سے متصل نئی بندرگاہ کی تعمیر کا کام مکمل کیا ہے وہ اسی جذبے اور اہتمام کے ساتھ اپنی فوج کو اس بندرگاہ کے آپریشنل امور میں بھی شریک رکھے گا۔ اگرچہ ابھی یہ اندازہ نہیں ہے کہ ان امور میں اسرائیلی بحریہ کا کردار کس حڈدتک ہوگا اور کس حد تک نہیں ہوگا۔ مگر یہ وآضح ہے کہ غزہ کے اندر بحری راستے سے آکر تقسیم ہونے والی امداد اسرائیلی فوج کے تعاون و شراکت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں