شیعہ عالم مقتدی الصدر دوبارہ سیاسی طور پر کامیابی کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

طاقتور شیعہ عالم الصدر اپنے سیاسی اقتدار کی بحالی کے لیے زمین ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سال کی ناکامی کے بعد بالآخر وہ اس کوشش میں ہیں کہ وہ شیعہ حریفوں کے بغیر حکومت قائم کر سکیں۔

مبصرین کا خیال ہے ان کی واپسی کے لیے تیاری 2025 کے پارلیمانی انتخابات کو مد نظر رکھ کر کی جا رہی ہے۔ 2025 کے انتخابات کے کیے تیاری ان کے مخالفین کے کیے خطرہ ہو سکتی ہے اور ایران سے قربت رکھنے والے مسلح گروہوں کو بھی مقتدی الصدر کی سیاست میں واپسی سے خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان کی آمد سے عراق کی حالیہ عدم استحکام کی صورتحال پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

عراق کی اکثریت یہ توقع کر رہی ہے کہ مقتدی الصدر دوبارہ سے سیاست میں ابھر سکتے ہیں۔ مقتدی الصدر کا پیغام نیک مگر غریب لوگوں کے لیے اہم ہے۔ وہ سب اسے ایک چیمپیئن کے طور پر دیکھتے ہیں۔

'رائٹرز' نے مقتدی الصدر کے سلسلے میں سیاست دانوں، علماء اور تجزیہ کاروں سے بات کی تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا 'حکومت بنانے کے لیے پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں الصدر کے پاس اہم منصوبہ ہے۔'

ایک سابق قانون ساز نے کہا '2021 کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مقتدی الصدر نے قانون سازوں کو مستعفی ہونے کا کہا تھا اور اگلے سال سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں