اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 72.5 فیصد تعلیمی ادارے تباہ، لاکھوں طلباء تعلیم سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ میں سات ماہ سے زیادہ عرصے پر پھیلی جنگ میں جہاں اور بہت کچھ تباہ کر کے اسرائیلی بمباری نے ملبے کا ڈھیر بنا دیا وہیں سکول اور یونیورسٹیاں بھی غزہ کی سرزمین پر موجود نہیں رہیں اگر کوئی تعلیمی ادارہ بچ گیا ہے تو وہ بروئے کار نہیں بندش کا شکار ہے۔ تاہم اس دوران فلسطینی پناہ گزین اور ان سے انسانی بنیادوں پر ہمدردی رکھنے والے بعض افراد اور ادارے اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح غزہ کے اندر یا غزہ سے باہر جہاں بھی ممکن ہو تعلیم کا سلسلہ ازسر نو شروع ہو سکے۔ ان کی انہی کوششوں کے نتیجے میں خان یونس کے نزدیک لگائے گئے ایک کیمپ میں بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آلتی پالتی مار کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

دو بہنیں مقبوضہ مغربی کنارے میں ہوتے ہوئے قاہرہ کے ایک سکول سے آن لائن تعلیم حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں جبکہ ایک پروفیسر صاحب ان بے گھر فلسطینی بچوں کو جرمنی سے تعلیم کے لیے مدد دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان کا یورپی یونیورسٹیوں میں رابطہ ہو جائے ۔

ایسے میں المواسی نام کے کیمپ میں موجود رضاکار استاد اسماء الاسطل نے خیمے میں بنے ایک سکول میں کہا اب ہمارے پاس طلباء آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اسرائیلی بمباری کے باوجود ہم ان کو یہاں لا سکیں اور ان کو کچھ پڑھا سکیں۔

واضح رہے کہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کی یہ بات بین الاقوامی سطح پر مسلمہ تھی کہ غزہ اور مغربی کنارے میں شرح خواندگی بہت بلند ہے مگر اسرائیلی فوج کی بمباری کے علاوہ فلسطینی علاقوں کی ناکہ بندی اور محاصرے نے تعلیم کے شعبے کو بری طرح پامال کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔

پہلے اسرائیلی بمباری سے بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے تعلیمی ادارے پناہ گاہوں میں بدلے گئے اوربعد ازاں نقل مکانی کی ایسی صورتحال بنی کہ سکولوں میں جانے والے بچوں کی عمر کے چھ لاکھ پچیس ہزار بچے بھی بے گھر ہوکر تعلیم سے محروم ہو گئے ۔

غزہ میں ہائیر ایجوکیشن کے 12 ادارے تباہ کر دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے تقریباً نوے ہزار طلباء کا مستقبل مخدوش ہوا ہے جبکہ 3500 اساتذہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں ۔

اسراء اعظم میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ ہیں اور غزہ میں الازہر یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے اس جنگ کے دوران ہمارے بہت سارے اساتذہ اور سینیئر ڈاکٹرز اور دوست ہم سے چھن گئے ہیں۔ اس جنگ کے دوران ہم سے اور بھی بہت کچھ حتی کہ تعلیم کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔

اسراء اعظم آج کل الاقصی ہسپتال میں رضاکار کے طور پر مریضوں کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن نہیں چاہتی کہ تعلیم کے ساتھ ان کا تعلق منقطع ہو۔ وہ کہتی ہیں ان حالات میں دیر البلح میں موجود اقصی ہسپتال میں کام کرتے ہوئے ہم کبھی تھکے ہیں نہ ڈرے ہیں الحمدللہ ۔ ایک ڈاکٹر کے طور پر ہم اپنے کام سے محبت رکھتے ہیں ۔

فھد الحداد الاقصی ہسپتال میں ایمرجنسی کے سربراہ ہیں اور اسلامی یونیورسٹی غزہ میں فیکلٹی آف میڈیسن میں بطور لیکچرر پڑھاتے ہیں ۔ انہیں امید ہے کہ غزہ میں دوبارہ سے تعلیم کا ماحول شروع ہو جائے گا ۔

دسیوں ہزار غزہ کے فلسطینی جنہوں نے نے مصر کی سرحد عبور کی ہے وہ بھی بے پناہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اگر چہ وہ اپنے رشتے داروں کے ہاں مقیم ہیں لیکن ان کے پاس ایسی دستاویزات نہیں ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں اور تعلیمی اداروں میں داخل کروا سکیں ۔ اس لیے ان میں سے بعض نے یورپ میں موجود آن لائن سہولت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے تاکہ ان کے بچے بالمشافہ نہیں تو آن لائن تعلیم حاصل کر سکیں۔

ادھر قاہرہ میں فلسطینی سفارتکار یہ یہ کوشش کر رہ ہیں کہ ہائی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے امتحان دینے کی کوئی سہولت بن آئے۔

چھیالیس سالہ کاروباری شخص کمال ابتراوی کا کہنا ہے کہ ان کی جو بچیاں سکول میں پڑھ رہی تھی وہ مصری دارالحکومت میں رہتے ہوئے آنلائن پڑھنے پر مجبور ہیں ۔ انہیں آنلائن طالب علم ہونے کی وجہ سے ہر روز کلاسوں سے تکنیکی مسائل کی وجہ سے محروم رہنا پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے 72.5 فیصد تعلیمی اداروں کی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں ان میں دوبارہ سے تعلیم شروع کر لیے عمارت کی تعمیر نو کرنا ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں